تعارف

سلطان الفقر ویب سائٹ پر خوش آمدید۔ یہ ویب سائٹ ان سات سلطان الفقر ارواح کی شان کے بیان پر مشتمل ہے جن کا تذکرہ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شہرۂ آفاق الہامی تصنیفِ لطیف رسالہ روحی شریف میں فرمایا ہے ۔ اس ویب سائٹ پر ان سلطان الفقر ارواح کی حیاتِ مبارکہ کے متعلق تفصیلات بھی موجود ہیں جو اس فانی دنیا میں جلوہ افروز ہو کر طالبانِ مولیٰ کو فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فیض یاب کر چکی ہیں۔ اس ویب سائٹ کا مقصد امتِ مسلمہ کو ان ارواح سے متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ ان کی روحانی تعلیمات اور راہِ فقر سے روشناس کروانا بھی جو اللہ کے قرب و دیدار اور اللہ کے انعام یافتہ لوگوں کی راہ ہے۔ فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اس پیغام کو دنیا بھر میں عام کرنے کے لیے سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ’’تحریک دعوتِ فقر‘‘ کا قیام عمل میں لائے ہیں۔ یہ تحریک دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو راہِ فقر اختیار کرکے مرشد کامل اکمل کی نگاہِ کامل کے ذریعہ روحانی پاکیزگی حاصل کرکے اللہ سے اپنا باطنی تعلق مضبوط کرنے اور قربِ الٰہی کی حقیقی نعمت حاصل کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ فقر سرورِکائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اصل ورثہ اور دینِ اسلام کی روح ہے۔
تحریک دعوتِ فقر کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے اللہ سے اس ازلی مضبوط تعلق کا احیا ہے جس کی کمزوری کی بدولت آج مسلم امہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کی توجہ روحانیت سے خالی ظاہری و جسمانی عبادات سے ہٹا کر روحانی پاکیزگی کی طرف مبذول کی جائے جو اللہ سے مضبوط تعلق قائم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔اس تعلق کے قائم ہونے کے بعد ہی ظاہری عبادات حقیقی عبادات بنتی ہیں اور ایک مسلمان مومن کے درجے تک رسائی کرتا ہے۔
فقرِ حقیقی اللہ اور اس کے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا نور ہے اور ان سات خاص الخاص ارواح کو ’’سطان الفقر‘‘ کا خطاب اس لیے عطا کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ظاہری حیات کے بعد آپ کے اس نور کا اسی مادی دنیا میں مجسم اظہار بننا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ورثۂ فقر کو آگے بڑھانا تھا ۔ان شش ارواح نے اس نور کا مشاہدہ اس قدر قرب اور یکتائی کی حالت میں کیا، اور دنیا میں اس کا اظہار اسی مکمل شان سے کیاجوبے مثل و بے مثال ہے حتیٰ کہ ان کے خاکی اجسام، جن کا لباس پہن کر وہ اس دنیا میں ظاہر ہوئیں، بھی مکمل نور ہیں کیونکہ ان کی ابتدا و انتہا بھی نور ہے اور ان کی فنا و بقا بھی نور میں ہی ہے۔ وہ ازل سے جمالِ الٰہی کے عمیق دریائے نور میں غرق اور اس کے دیدار میں محو ہیں۔

Tehreek-Dawat-e-Faqr

Sultan-ul-Ashiqeenامام الوقت ، دورِ حاضر کے انسانِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس مشائخ سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں سلطان ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اس زمانہ میں خزانۂ فقر کے وارث و محافظ ہیں۔ یہ خرانہ اور ورثہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور ان سے حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کو منتقل ہوا۔ حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ سے منتقل در منتقل ہوتے ہوئے یہ خزانہ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ اور پھر سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچا۔اس سلسلہ کی اکتیسویں کڑی پر یہ ورثہ اور امانتِ فقر سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ سے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے سپرد فرما دی گئی بحکم و اجازت سرکارِ دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے ظاہری وصال کے بعد مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالی اور فقر کی تبلیغ کے لیے جدو جہد کا آغاز فرمایا۔14اگست 2005ء سے آپ مدظلہ الاقدس نے بیعت فرمانے اور ذکر و تصورِ اسم ذات عطا کرنے کا آغاز فرمایا ۔ اس سلسلہ کو مزید بڑھاتے ہوئے2009ء میں تحریک دعوتِ فقر کا آغاز فرمایا تاکہ مسلم امہ کو فقر اور تزکیۂ نفس و تصفیہ قلب کی دعوت منظم طریقے سے دی جا سکے۔
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے خزانہ فقر کو دنیا بھر میں عام کرنے اور تعلیماتِ فقر کی ترویج و اشاعت کے لیے لاتعداد ظاہری و باطنی اقدامات اٹھائے ہیں۔ موجودہ دور سے قبل اسمِ ذات کا ذکر چار منازل میں عطا کیا جاتا تھا۔ ۔ ان اذکار میں سے ’’azkar1‘‘ کا ذکر سلطان الاذکار ہے لیکن پہلی تین منازل سے گزر کر سلطان الاذکار ’azkar1‘ تک پہنچنے کے لیے طالبانِ مولیٰ کو بہت محنت اور وقت درکار ہوتا تھا۔ زیادہ تر طالبانِ مولیٰ اس مقام تک پہنچ ہی نہ پاتے تھے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس عطائے الٰہی اور رضائے محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے اس قدر اعلیٰ روحانی مراتب پر فائز اور باطنی قوتوں سے مالا مال ہیں کہ آپ اپنے مریدین کو بیعت کے پہلے روز ہی سلطان الاذکار ’azkar1‘ اور ذکر و تصور کے لیے سنہری اسمِ  ذات اور مشقِ مرقومِ وجودیہ عطا فرماتے ہیں۔
علامہ ابنِ عربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’azkar1 عارفین کا آخری اور انتہائی ذکر ہے۔‘‘(فتوحاتِ مکیہ)
سلطان العارفین حضرت سلطان سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
sultan-ul-azkar4

ترجمہ: ذکرِ azkar1 ذاکرین کا انتہائی ذکر ہے۔

یعنی یہ ذکر طالبانِ مولیٰ کو قرب الٰہی کے انتہائی مقام تک پہنچاتا ہے۔ جب طالبانِ مولیٰ ذکر و تصورِ اسم ذات کے ذریعے دیدارِ الٰہی اور مجلسِ محمدی کی حضوری مرشد کامل اکمل کی مہربانی سے حاصل کرلیتے ہیں تو آپ مدظلہ الاقدس انہیں تصور کے لیے اسمِ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عطا فرماتے ہیں جس کی بدولت وہ مزید روحانی پاکیزگی و ترقی حاصل کرتے ہیں ۔حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اسمِ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے باطنی اثرات و کمالات کے متعلق فرماتے ہیں:

اسمِ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تصور سے علم کی سچی آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ (کلیدِ جنت)

جب طالب اسم  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے تصور میں لاتا ہے تو بے شک جناب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روح مبارک مع ارواحِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نہایت لطف و کرم سے تشریف فرما ہوتی ہیں۔ صاحبِ تصور کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں ”میرا ہاتھ پکڑ۔” آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہاتھ پکڑتے ہی طالب کا دل معرفتِ الٰہی کے نور سے روشن ہو جاتا ہے ۔ (کلیدِ جنت)

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے فقر کی تاریخ میں ایسے شاندار و بے مثال اقدامات اٹھائے جن کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کی جد وجہد کی بدولت فقر دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور امتِ مسلمہ فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ کی بدولت اصل دینِ حقیقت سے روشناس ہو رہی ہے۔