آزمائش راہِ حق میں اللہ تعالیٰ کا انعام ہے | Azmaish Rah e Haq Allah Ka Anaam hai

آزمائش راہِ حق میں اللہ تعالیٰ کا انعام ہے 

تحریر: محمد یوسف اکبر سروری قادری۔ لاہور

اللہ ربّ العالمین جل شانہٗ اپنے بندوں میں سے جنہیں وہ پسند کرتا ہے‘ آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تا کہ وہ اطاعتِ خداوندی پر مضبوط ہو کر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جو آزمائش انہیں پہنچی ہے اس پر صبر کریں تاکہ انہیں بغیر حساب کے اجرو ثواب سے نوازاجائے اور یقینا حکمتِ خداوندی کا بھی تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنے برگزیدہ بندوں کو آزماتا رہے تا کہ ناپاک کو پاک سے اور سچے کو جھوٹے سے جدا کردے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرما تا ہے :
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا وَ اٰمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ۔ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۔ (العنکبوت۔2-3)
ترجمہ : کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ اسی پر چھوڑ دئیے جائیں گے کہ کہہ دیں ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی۔ بلاشبہ ہم نے ان لوگوں کی بھی آزمائش کی جو ان سے پہلے گزرے۔
قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ ربّ العالمین ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَثَلَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِکُمْ مَّسَّتْہُمُ الْبَاْسَآءُ والضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ ط اِلَّآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ (البقرہ ۔ 214)
ترجمہ : کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جائو گے حالانکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسی حالت نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے۔ انہیں تنگ دستی اور تکلیف پہنچی اور وہ سخت ہلائے گئے یہاں تک کہ رسول اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے‘ پکار اُٹھے اللہ کی مدد کب ہو گی؟ سن لو! بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔
اللہ ربّ ذوالجلال اپنے بندوں کو خوشحالی، تنگی، عزت، آسانی اور مشقت میں مبتلا کر کے ان کی آزمائش کر تا ہے جیسا کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کی آزمائش کی۔ پس معلوم یہ ہوا کہ ایک اٹل اور نہ بدلنے والا اصول جاری ہے کہ جو شخص بھی اللہ ربّ العالمین کے دین پر کاربند ہو گا یا ہونے کا دعویٰ کرے گا تو ربّ کریم اس کی آزمائش کرے گا۔ 
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے ’’سب سے زیادہ مبتلائے بلا انبیا ہوتے ہیں پھر ان کی مثل (جو مرتبہ میں ان سے کم ہوتے ہیں) اور پھر ان لوگوں کی مثل (جو مرتبہ میں ان سے بھی کم ہوتے ہیں)۔ ‘‘ (ابن ِ ماجہ)
مندرجہ بالا حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ آزمائش اللہ تعالیٰ کی ناراضگی نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ پاک انبیا و مرسلین اور فقرا کاملین کو آزمائشوں میں کیونکر مبتلا کرتا بلکہ یہ مومنین کے لیے باعث ِ مسرت امر ہے کیونکہ آزمائشوں میں مبتلا ہونا اور صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا سنت ِ انبیا و مرسلین ہے۔ اوپر بیان کی گئی حدیث سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کے اس بیان سے واضح ہو جاتی ہے:
٭ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیشہ اپنے بندۂ مومن کو اس کے ایمان کے مطابق آزمائش میں ڈالتا ہے۔ جس شخص کا ایمان زیادہ قوی ہے اس کی آزمائش اتنی ہی بڑی ہو گی۔ رسول کی آزمائش نبی کی آزمائش سے زیادہ بڑی ہے کیونکہ رسول کا ایمان زیادہ قوی ہوتا ہے پھر نبی کی آزمائش ابدال سے زیادہ بڑی ہے۔ اسی طرح ابدال کی آزمائش ولی کی آزمائش سے زیادہ ہے۔ ہر ایک اپنے یقین اور ایمان کے مراتب کے مطابق آزمائش میں ڈالا جاتا ہے، اس کی بنیاد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ فرمان مبارک ہے ’’ہم یعنی گروہ انبیا آزمائش کے اعتبار سے لوگوں سے سخت تر ہیں، اس کے بعد درجہ بدرجہ۔ (فتوح الغیب۔ مقالہ 56)
اللہ پاک کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ آزمائش، تنگدستی، پریشانی اور مصیبت میں مبتلا کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ مبارک گروہ قربِ الٰہی اور حضوری کے مراتب پر ہمیشہ ترقی کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنا دوست رکھتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں اور محب اپنے محبوب کی جدائی کبھی گوارا نہیں کرتا۔
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
٭ اللہ تعالیٰ مومنین میں سے ایک ایسے گروہ کو جو اس کا دوست اور اہل ِ معرفت و ولایت ہوتا ہے‘ آزمائش میں ڈال دیتا ہے تاکہ وہ اس آزمائش اور مصیبت کی وجہ سے بارگاہِ خداوندی میں سوال کرے۔ اللہ تعالیٰ اس کی دعا اور اپنی بارگاہ میں سوال کو بہت پسند کرتا ہے۔ چنانچہ جب یہ لوگ دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے جلدی قبول فرما لیتا ہے تاکہ انہیں جود و کرم اور بخشش و عطا کا وافر حصہ عطا فرما دے۔ (فتوح الغیب۔ مقالہ 52)
یہ گروہ کونسا ہے اور کن لوگوں پر مشتمل ہے؟ بلاشبہ یہ وہ خوش قسمت مومنین ہیں جو مرشد کامل اکمل کی رہنمائی میں اپنے نفوس کے تزکیہ کے ذریعے معرفت ِ الٰہی اور قربِ الٰہی کی منازل طے کرنے کے لیے ہر قسم کی آزمائش اور امتحان سے گزرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
وہ مدعیان جو لوگوں کے تزکیۂ نفس اور ان کے اندر انقلاب برپا کرنے اور ان کی ہدایت و رہنمائی کی راہِ حقیقت و معرفت پر چلتے ہیں‘ ان کا مشقت یا مصیبت و آزمائش میں مبتلا ہونا یقینی امر ہے۔ اس راہِ معرفت میں مضبوط چٹانیں اور تکلیف دہ خارِ نوکدار بچھے ہوتے ہیں اور اسی راہِ معرفت میں سرکشوں اور بد بخت مجرمان و قذاقوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر داعی ٔ حق ان تکالیف کو برداشت کرکے ثابت قدمی اختیار کرے اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دے تو ضرور ان سرکشوں پر حاوی آ کر منزل پر پہنچ جاتا ہے۔
اس کے برعکس اگر مشقت اور آزمائش کے ابتدائی مراحل میں ہی حوصلہ ہار بیٹھے تو اس راہ ِ معرفت پر چلنے سے قبل ہی اُلٹے پاؤں پلٹ جائے گا اور وہ شکست خوردہ، مایوس ہو کر تھک ہا ر کر بیٹھنے والوں اور بھٹکے ہوؤں میں شمار ہو گا جو نہ توخود منزل کا راہی ہے نہ دوسروں کی رہنمائی کرنے کے قابل۔ ایسے لوگ نہ تو قافلہ والے کہلاتے ہیں اور نہ ہی رہنما کہلاتے ہیں ۔
اللہ ربّ العالمین قرآنِ حکیم میں ارشاد فرماتاہے:

وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَ نْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ط وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ۔(البقرہ : 155)

ترجمہ : اور یقینا ہم تمہیں خوف، بھوک،مال، جان اور پھلوں کی کمی میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرور آزمائیں گے اور ( اے نبی) صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دیجئے۔
اس آیت مبارکہ سے صاف ظاہر ہے کہ مومنین کا آزمائش میں مبتلا ہو نا ضروری امر ہے۔ اگر طالبانِ مولیٰ یہ با ت سمجھ جائیں کہ ان کو بصورت آزمائش عظیم بھلائی حاصل ہے تو آزمائش ان پر آسان ہو جائے کہ آزمائش کے نتیجے میں ہی ان کے قربِ الٰہی کے درجات بلند ہوں گے اور باطنی ترقی و مضبوطی حاصل ہوگی۔جب تک راہِ معرفت کے مسافر دعوتِ حق کی راہ میں آزمائش میں گھرے رہیں اور آزمائش میں گرفتار ہوکر بھی اپنے مرشد اور اس کے طریقے کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کے ذکر کے ذریعے اپنے ربّ سے جڑے رہیں گے تو بھلائی اور کامیابی کی منزلیں طے کرتے رہیں گے۔
آزمائش کی بہت سی اقسام ہیں جن میں سے ان کے کچھ پہلوؤں کا ذکر کیا جاتا ہے ۔
1 ۔ بیماری کے ذریعے آزمائش
2 ۔ قیدو بند کے ذریعے آزمائش
3 ۔ استہزا و تمسخر کے ذریعے آزمائش
4۔ گالی گلوچ کے ذریعے آزمائش
5۔ اذیت، مارپیٹ اور سزا کے ذریعے آزمائش
6۔ خوف اور بے چینی کے ذریعے آزمائش
7۔ غم و فکر کے ذریعے آزمائش
8۔ جبراًجلا وطنی کے ذریعے آزمائش
9۔دشمن کے تسلط اور غلبہ کے ذریعے آزمائش
10۔حاسدین اور منافقین کے پروپیگنڈہ کے ذریعے آزمائش
11۔قریبی عزیز و اقارب کی موت یا گمشدگی کے ذریعے آزمائش۔
12۔بھوک اور افلاس کے ذریعے آزمائش۔
13۔رسوائی، تہمت زنی، احساسات کے مجروح کرنے اور شہرت کو نقصان پہنچانے کے ذریعے آزمائش۔
14۔اولاد ،مال و زرکے ذریعے آزمائش۔
15۔طاقت عطا کر کے آزمائش۔
16۔کمزور کی آزمائش۔
17۔اختلافات کے ذریعے آزمائش۔
بلا شک و شبہ توفیق ِ الٰہی اور معرفت ِ الٰہی کے حصول کے لیے مرشد اور اس کی جماعت، حلقہ ٔ احباب اہم لازمی اور فعال ذریعہ ہیں۔ اگر کوئی انسان اپنی تما م تر زندگی گوشہ نشینی، صوم و صلوٰۃ، شب و روز تسبیح و تحلیل، مال زکوٰۃ کی ادائیگی میں صرف کرے اوراپنی دولت غربا و مساکین پر لٹا دے، حج ادا کرے، حجر ِ اسود پر بوسے دے، سجدوں میں گریہ وزاری کرے،آنسو بہائے اور مکہ معظمہ اور جن جن مقامات پر عبادت کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے‘ نماز ادا کرے تب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والا اجر و ثواب انفرادی سطح تک ہی رہے گا ۔
لیکن جو نہی ایک فردِ واحد اپنا ہاتھ ولی کامل مرشد کامل اکمل رہبر و رہنما کے ہاتھ میں دے گا تو جماعت سے وابستہ و منسوب ہو جائے گا اور اس کے دل میں جماعت جتنی وسعت پیدا ہو جائے گی۔ اولو العزمی اور بلند حوصلے کے ساتھ آزمائش سے نبرد آزما ہونے والے افراد پر مشتمل جماعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت، حمایت اور نصرت ہوتی ہے ۔ اگرچہ اہل ِمعرفت کی ہمتیں عام طور پر بلند ہوتی ہیں مگر پھر بھی آزمائش کے وقت بہت کم طالبانِ مولیٰ آزمائش پر پورا اترتے ہیں۔ 
یہ حقیقت بھی روزِ روشن کی طرح عیا ں اور اٹل ہے کہ جس قدر مشکل در پیش ہو اور جدوجہد کی جائے گی اسی قدر روحانی اور مادی فتوحات حاصل ہوں گی۔ اس کی مثال ایک بیج سے دی جاسکتی ہے کہ ایک بیج کو مٹی میں سے اپنی کونپل نکالنے کے لیے زیرِ زمین کس قدر مشکل و مشقت کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ وہ خود پر مصائب برداشت کرتاہے سورج اور مٹی کی گرمی و تماز ت کا سامنا کرنے کی اپنے اندر استعداد و طاقت پیداکرتا ہے اور یہ ساری کی ساری مشقت وجود کو اک نئی طرز میں ڈھالنے اور بقا حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے اس لیے ان تمام مشقوں اور مشقتوں کی اہمیت و ہی جان سکتا ہے جو یہ مشقت اٹھا کر ایک نئی دنیا پیدا کرتا ہے ۔
ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ نے کیا خوب فرمایا :
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے
روحانیت اور فقر کے بلند ترین مقام پر فائز صحابہ کرامؓ کو سخت ترین آزمائشوں سے گزرنا پڑا ۔ابتدائی دورِ اسلام میں تو ہر طرف تلواروں کی جھنکاریں سنائی دیتی تھیں لیکن ان مشکلات اور آزمائشوں کی سختی و شدت کے باوجود کسی ایک صحابی ٔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھی نہ تو حق کا ساتھ چھوڑا اور نہ ہی دامن ِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے علیحدگی اختیار کی۔ کسی لالچ، مصیبت، آزمائش، مشقت، ملامت، مصیبت، سزا و سختی کو خاطر میں نہ لایا گیا اور ان میں سے کسی کو کبھی احساس تک نہ ہو ا کہ وہ حق پر نہیں ہیں۔ وہ حق پر ڈٹے رہے اور استقامت اختیار کی اور استقامت ہی حق کی اصل پہچان ہے۔ 
حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہٗ بہادر اور خود دار صحابی ٔ رسول ہیں۔ آپ ؓ کا چچا انہیں چٹائی میں لپیٹ کر چٹائی کو آگ لگا دیتا اور اسلام سے دستبرداری کا مطالبہ کرتا۔ مگر یہ آزمائش و تکالیف، ایذا رسانی آپؓ کے پائے استقامت میں ذرّہ برابر بھی لغزش پیدا نہ کر سکی او ر کوئی تکلیف و اذیت انہیں اسلام سے دستبردار و منحرف ہونے پر مجبور نہ کر سکی۔ رسولِ رحمت و عظمتؐ اُن کی اس دلیری و شجاعت و استقامت کی بنا پر فرما یا کرتے تھے کہ ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حواری ہوتا ہے میر ا حواری زبیر بن العوام ہے۔ اس ایمان افروز واقعہ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی مصائب کا سامنا کیا۔ کسی نے بھی تقدیر و مصائب پر اعتراض نہیں کیا۔ وہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کی خاطر کسی آزمائش میں ڈالے گئے انہوں نے رہبر ِ کامل صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ پر نازل ہونے والے کلامِ الٰہی سے رہنمائی حاصل کی اور حق پر استقامت اختیا ر کی۔ حق کی جستجو کی اور دوسری ہر چیز پر اپنے رہبر ِ کامل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ترجیح دیتے رہے۔ اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھا اور ترویج ِ حق کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے اور کسی بھی مالی و جانی قربانی سے دریغ نہ کیا۔
مشتاقانِ الٰہی کو حق کا پاسدار اور اپنے رہبر و رہنما مرشد کامل اکمل کا وفا دار ہونا چاہیے۔ حق بات کو قبو ل کرنے سے ہی حق بات پر قائم رہنے کی تصدیق ہوتی ہے۔ طالبانِ مولیٰ کو صحابہ کرامؓ جیسے مزاج اور استقامت کو اختیار کرنا چاہیے کیونکہ ان کا تعلق حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام سے اس قدر مضبوط تھا کہ حق کے معاملے میں کسی دلیل و تاویل کو خاطر میں نہ لاتے تھے اور اسی بنا پر ان ہستیوں نے بڑے اہم اور عظیم کارہائے نمایاں سر انجام دئیے۔ ہمیں ان عظیم ہستیوں کے مزاج کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ہمارے یقین و ایمان میں وسعت و استقامت پیدا ہو ۔
یہ قاعدہ اور ضابطہ ہے کہ بارِ گراں کو اٹھانے کے لیے مضبوط تندرست پٹھوں اور بازوؤں کا ہونا لازمی ہے۔ کمزور پٹھوں اور بازوؤں کے ذریعے بھاری و گراں چیز کو اُٹھا نا ممکن نہیں۔ اسی طرح عظیم مقاصد و کامیابی کے لیے صحابہ کرام ؓ جیسے اعصاب و آداب و استقامت و اسوہ کو اپنانا لازم ہے۔ غلبہ اور نصرت دین ِ محمدی ؐ کے لیے اسوۂ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ حق کی فتح کے لیے استقامت ِ حق، یکجہتی، اتفاق و اتحاد اور صف بندی کرنا اور جدت پیدا کرنا ناگریز ہے جیسا کہ مرشد ِ کامل اکمل نور الہدیٰ سیدی و مرشدی سلطان العاشقین حضر ت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے درج ذیل مصرع
ثبات اِک تغیر کو ہے زمانے میں 
کی تشریح بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’جو زمانے کے انداز کو نہیں سمجھتا اور جدید و نئی جہات و تفاسیر و معانی کو تلاش نہیں کرتا وہ پیچھے رہ جاتا ہے ۔ ‘‘
جس قدر طالبانِ مولیٰ آزمائشوں اور مشقتوں کا سامنا کریں گے اور ذمہ داری کا بوجھ برداشت کریں گے اسی قدر مشتاقانِ حقیقت و معرفت پر اللہ ربّ العالمین اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی توفیق و انعامات و عنایات کی بارانِ رحمت کا نزول ہو گا۔ہم کو اللہ ربّ کریم‘ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم و مرشد کامل و اکمل کے وسیلہ جلیلہ سے انعام کے طور پر اپنے لطف و کرم سے جو اعلیٰ مقام عطا فرماتا ہے اس میں ہماری ذاتی قابلیت یا فضیلت و برتری کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔ یہ مرشد کامل اکمل کی کامل نگاہ کا لطف وکمال ہی ہوتاہے ۔
میرے مرشد کامل اکمل نور الہدیٰ مجددِ دین سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فقر کی دولت عام کرنے میں مصروفِ عمل ہیں اور تزکیۂ نفس کے نبویؐ طریق کو لیکر شب و روز کوشاں ہیں۔ آپ سب کو دعوت دی جاتی ہے کہ اس مردِ کامل کی جماعت کاحصہ بن جائیں۔ آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ ربّ العزت تمام مشتاقانِ حق کو نعمت ِ فقر حاصل کرنے، اسمِ اللہ ذات کے ذریعے حق سے شناسائی حاصل کرنے کی سمجھ عطا فرمائے اور اسے تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں