تجلّی | Tajalli

تجلی

تحریر: رافیعہ گلزارسروری قادری۔ لاہور

اللہ تعالیٰ کا اپنے نور اور ذات و صفات کا اظہار تجلّی ہے۔ یہ اظہار جلال و جمال دونوں صورتوں میں ہوتا ہے اس کائنات میں ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تجلیات کی مظہر ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ِ ربانی ہے:
اَللّٰہُ  نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔
ترجمہ: اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (سورۃالنور) 

اللہ تعالیٰ کے نور کا بہترین اور کامل ترین اظہار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ بابرکات ہے۔ حدیث ِ مبارکہ ہے ’’میں اللہ کے نور سے ہوں اور تمام مخلوق میرے نور سے ہے۔‘‘ اور ’’حق تعالیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا کیا۔‘‘ اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظاہری وصال کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے اس نور کا اظہار مختلف ادوار میں مختلف اعلیٰ و ارفع صورتوں میں کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔ عوام الناس تک تجلی ٔ نور کو پہنچانے کے لیے اور ہر تجلی کے اظہار کیلئے کسی نہ کسی واسطے کی ضرورت ہوتی ہے اسی لیے تجلیاتِ الٰہیہ کے کامل اظہار کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسانِ کامل کو چنا۔ سیّد عبدالکریم بن ابراہیم الجیلی ؒ اپنی تصنیف ’’انسانِ کامل‘‘ میں فرماتے ہیں۔’’ جب خلق کو اس (تجلی ٔ واحد) میں کوئی نسبت ہوتی ہے جو وہ کسی اعتبار، نسبت، وصف یا ان میں سے کسی چیز کی محتاج ہوتی ہے۔‘‘ اسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں ’’ سبحان اللہ! از اجسامِ عناصر خاکی بہزار مظہر ظہور آثار جمال و جلال قدرت ہائے کاملہ،آئینہ باصفا ساختہ،تماشائے روئے زیبامی فرماید۔‘‘

ترجمہ: سبحان اللہ!خاکی اجسام کے روپ میں اپنی قدرتِ کاملہ کے جمال و جلال کی نشانیوں کے اظہار کے لیے ہزاروں جلوئوں کو آئینہ باصفا بنا کر اپنے حسن کا نظارہ فرما رہا ہے۔ (رسالہ روحی شریف)
الف و میم دے رنگ بتھیرے
بے رنگ دے ہر رنگ وچ ڈیرے
واہ واہ ھو ھو چار چوفیرے
وچ پردے نور محمدیؐ آیا
ربّ بندے دا چولا پایا
کامل بندے کے روپ میں تجلی ِربّ تعالیٰ کے اظہار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں’’ اگر پردہ را از خود براندازی ہمہ یک ذات و دوئی ہمہ از احوالِ چشمیست۔‘‘ (رسالہ روحی شریف)
ترجمہ: ’’ اگر تو اپنے آپ سے پردہ ہٹادے تو سب وہی ایک ذات ہے اور جو کثرت اور دوئی تجھے نظر آتی ہے وہ محض تیری آنکھ کے بھینگے پن کی وجہ سے ہے۔‘‘ 
منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی
قسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی
اللہ تعالیٰ کا نور ہی انسانی ارواح کی حیات کی بنیاد ہے جیسا کہ روز ِ ازل جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نور کا اظہار فرمایا تو یہ تجلی نور اروا ح کی زندگی کی وجہ بنی۔ اللہ تعالیٰ کا روز ِ ازل اپنی ذات کا اظہار، اپنی صفات کااظہار اور مخلوقات کی تخلیق کے ذریعے اپنی قدرت کا اظہار سب اللہ تعالیٰ کے نور کی تجلیات ہی ہیں۔
حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
’’کنت ھاھویت،کنزایاھوت،مخفیا لاھوت، فاردت ملکوت ان اعرف جبروت، فخلقت الخلق ناسوت ذاتِ سرچشمہ  چشمان حقیقت ھاھویت۔‘‘
ترجمہ: ’’ میں تھا ھاھویت میں، خزانہ یا ھوت کا، مخفی لاھوت میں، ارادہ کیا ملکوت میں، پہچانا جائوں جبروت میں، خلق کیا مخلوق کو ناسوت میں اور ظہور میرا مکمل ہوا اس ذات (انسانِ کامل) میں جو حقیقت ھاھویت کی آنکھوں کا سرچشمہ ہے۔‘‘

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اس کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
٭ ’’وحدت (یاھوت) اللہ کی ذات کے اظہار کا پہلا مرتبہ ہے جہاں ذات (ذاتِ حق تعالیٰ) نورِ محمدی کی صورت میں ظاہر ہوئی اور یہ نور ہی خزانہ ہے جو اپنا اظہار چاہتا ہے یہاں ذات کا ظہور الذات فی الذات ہے یہاں ظہور الحقیقت فی الحقیقت ہے اسے حقیقت ِ محمدیہ بھی کہتے ہیں یعنی نورِ مطلق سے نورِ محمدی کا ظہور۔‘‘ (شمس الفقرا)

٭ آپ مدظلہ الاقدس مزید فرماتے ہیں ’’حق تعالیٰ نے نورِ محمدی سے روحِ قدسی، روحِ قدسی سے روحِ سلطانی، روحِ سلطانی سے روحِ روحانی اور روحِ روحانی سے روحِ انسانی کی صورت میں انسان یعنی بشر میں ظہور فرمایا لیکن وہ انسان جس میں یہ ظہور کامل اکمل مکمل اور اُتّم ہوا وہ انسانِ کامل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات پاک ہے اور ان تمام مراتب کے مظہر ِ اُتّم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں۔‘‘ (شمس الفقرا)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ظاہری وصال کے بعد نور ِ حق تعالیٰ کی تجلیات ہر دور کے انسانِ کامل کے روپ میں ظاہر و نمودار ہوتی ہیں۔ 
علامہ ابن ِ عربی ؒ فرماتے ہیں:
٭ ’’ حضرت انسانِ کامل ربوبیت اور عبودیت کا جامع ہے کبھی اس پر ربوبیت کا تجلّٰی ہوتا ہے اور کبھی عبودیت کا، حضور سرورِ کونین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعض وارثین مثل ِ سمندر ہیں جو خشک نہیں ہوتا۔ دائمی ربوبیت اور دائمی عبودیت ان کی شان ہے۔‘‘ (شرح فصوص الحکم)
یہاں انسانِ کامل سے مراد مرشد کامل اکمل جامع نور الہدیٰ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ مرشد کامل کی شان یہ ہے کہ ان کی زبان کن کا درجہ رکھتی ہے ان کی ذاتِ بابرکات سے نورِ حق کی نہریں پھوٹتی ہیں اور طالبانِ حق کو سیراب کرتی ہیں مرشد کامل کی ذات تجلی نور کے سمندر کی مثل ہے جو کبھی خشک نہیں ہوسکتا۔
تجلی انوارِ حق تعالیٰ ہی دیدار ِ الٰہی کی وجہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع انہی تجلیات کی بنا پر ہے۔ سلطان العاشقین فرماتے ہیں ’’تجلی انوارِ حق تعالیٰ کی تاثیر ہے جو اللہ پاک کے مقبول بندوں کے قلوب پر وارد ہوتی ہے جس سے وہ اس درجہ پر پہنچتے ہیں کہ حق کو دیکھتے ہیں۔‘‘ (شمس الفقرا)
حضرت سخی سلطان باھوؒ  فرماتے ہیں کہ جو لوگ اہلِ  اللہ ہیں وہ ہر وقت تجلیاتِ الٰہیہ میں رہتے ہیں۔ (محک الفقر کلاں)
مزید فرماتے ہیں ’’تجلی روشنی کا نام ہے اور اسمِ اللہ ذات کے تصور سے دل پر ہزارہا تجلیات وارد ہوتی ہیں جن سے دل اور بھی روشن اور بے قرار ہو جاتا ہے اور اللہ کا دیدار بے حجاب ہونے لگتا ہے۔ معرفت ِ الٰہی کی بے حجاب روشنی آفتاب کی روشنی سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے اس مقام پر سب کچھ عین بعین دکھائی دیتا ہے ۔‘‘ 
عشق ِ الٰہی اور عشق ِ مصطفی کا بیج بھی تجلی ٔ حق تعالیٰ کی وجہ سے باطن میں پروان چڑھتا ہے یہ تجلی ایسی تڑپ ہے جو صرف اور صرف اللہ ربّ العزت کی یاد سے پیدا ہوتی ہے اسے تجلی ٔ خاص بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ اللہ سے محبت میں شدت پیدا ہونے سے رونما ہوتی ہے وہ تڑپ جو حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں پیدا ہوئی کہ وہ اللہ کا دیدار کر سکیں اسی تڑپ کی بنا پر آپؑ نے دیدار کی خواہش ظاہر کی یہی تڑپ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے کوہ ِ طور پر رونما ہونے کی وجہ بنی اسی تجلی کے بارے میں حضرت سخی سلطان باھو فرماتے ہیں ’’تجلی ِخاص وہ ہے جو درد ِ محبت ِ الٰہی سے پیدا ہوتی ہے۔‘‘ (عین الفقر) 
مزید فرماتے ہیں ’’خاص تجلی وہ ہے جو حروفِ اسم اللہ ذات سے نمودار ہوتی ہے۔ (عین الفقر)
اسی درد ِ محبت ِ الٰہی اور عشق ِ الٰہی کے متعلق سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں ’’یہی وہ درد ہے جو عاشق کو تڑپا تڑپا کر دیدار کی منزل تک لے جاتا ہے کیونکہ دیدار کے علاوہ سب منازل اور مقام دھوکہ ہیں۔ دیدارِ الٰہی کے علاوہ سب کچھ مردار ہے عاشق ہمیشہ طالب ِ دیدا ر ہوتا ہے۔‘‘ (شمس الفقرا)
جس تجلی ٔ حق تعالیٰ (دیدارِ الٰہی کی تجلی) کے ظاہر ہونے سے کوہ ِ طور ریزہ ریزہ ہوگیا تھا ویسی تجلیات ایک لمحہ میں ہزار بار سے زائد بندۂ مومن کے دل پر نازل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ان کے قلوب زندہ اور روشن ہوتے ہیں۔ حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
٭ حضرت موسیٰؑ پر بھی تجلی نازل ہوئی تھی لیکن وہ اسے برداشت نہ کر سکے لیکن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُمت کے فقرا کا یہ حال ہے کہ ان کے دلوں پر دن میں ہزارہا بار تجلیات کا نزول ہوتا ہے لیکن ان کے حوصلہ میں فرق نہیں آتا۔‘‘ 
٭ ’’ وازاں یک لمعہ کہ موسیٰ علیہ السلام درسرا سیمگی رفتہ و طور در ہم شکستہ در ہر لمحہ و طرفتہ العین ہفتاد ہزار بار لمعات جذبات انوار ذات برایشان وارد و دم نہ زندو آہے نہ کشید ند وھل من مزید می گفتند۔‘‘
ترجمہ: ’’اور جس ایک تجلی سے حضرت موسیٰ ؑسراسیمہ ہوگئے اور کوہ ِ طور پھٹ گیا ہر لمحہ ہر پل جذبات انوارِ ذات کی ویسی تجلیات ستر ہزار بار ان پر وارد ہوتی ہیں لیکن وہ نہ دم مارتے ہیں اور نہ آہیں بھرتے ہیں بلکہ مزید تجلیات کا تقاضا کرتے ہیں۔‘‘ (رسالہ روحی شریف)
٭ آن نورِ تجلی بموسیٰ کوہِ طور 
عین عیاں است مرا حق ظہور
ترجمہ: جس نور ِ تجلی کو موسیٰ ؑ نے کوہ ِ طور پر دیکھا تھا اسی نور ِ تجلی کو میں عین عیاں دیکھتا ہوں۔

تجلیات کی اقسام

تجلیات کی بے شمار اقسام ہیں ہر تجلی اپنی ایک خاص پہچان رکھتی ہے چونکہ تجلی جمال و جلال دونوں صورتوں میں ہوتی ہیں اسی لیے ہر تجلی اپنے اپنے اثرات رکھتی ہے اللہ ربّ العزت کے لاتعداد صفاتی اسما ہیں ہر اسم اپنی خاص تاثیر رکھتا ہے جو شخص جس اسم کا ورد کرتا ہے اسی اسم کی تاثیر اس بندے کے دل و روح پر اور اس کے وجود میں جاری ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ حضرت سخی سلطان باھوؒ چودہ اقسام کی تجلیات بیان فرماتے ہیں:
٭ ’’تجلی چودہ قسم کی ہوتی ہیں اور چودہ مقامات پر ہوتی ہیں۔ معلوم ہونا چاہیے کہ ہر تجلی اپنی نشانی سے، آثار سے اور تاثیر وجودیہ سے پہچانی جاتی ہے تمام باطنی مقامات سے سخت مقام ’’مقام ِ تجلی‘‘ ہے کیونکہ تجلیات میں آکر عارفوں، محققوں، موحدوں، ذاکروں اور طالبوں میں سے لاکھوں حضرات دریائے تجلیات کے بھنور میں غوطے کھا کر اپنی راہ سے ایسے بھٹکے کہ پھر کبھی کسی ساحل ِ عافیت تک نہ پہنچ سکے بعض مرتد ہوگئے، بعض شہرت کی بھینٹ چڑھ گئے، بعض مشرک ہو بیٹھے اور بعض بدعت اور استدراج میں پڑ گئے اور درجہ بدرجہ دوزخ کا ایندھن بنے۔ پہلی تجلی شریعت کی ہے جس کا تعلق ظاہر کی آنکھ سے ہے اور یہ پیشانی پر ظاہر ہوتی ہے، دوسری تجلی طریقت کی ہے جس سے نور ِ قلب پیدا ہوتا ہے، تیسری تجلی حقیقت کی ہے جس سے نور ِ روح پیدا ہوتا ہے، چوتھی تجلی معرفت کی ہے اس سے نورِ سِرّ پیدا ہوتا ہے، پانچویں تجلی عشق کی ہے اس سے اسرارِ الٰہی کا نور پیدا ہوتا ہے، چھٹی تجلی مرشد شیخ کی ہے جس سے نور ِ محبت اور اخلاص مربیّ پیدا ہوتا ہے، ساتویں تجلی فقر کی ہے اس سے نور غیر ماسویٰ اللہ پیدا ہوتا ہے، آٹھویں تجلی فرشتوں کی ہے اس سے نورِ تسبیح پیدا ہوتا ہے، نویں تجلی جن کی ہے جس سے جنونیت و دیوانگی پیدا ہوتی ہے، دسویں تجلی نفس کی ہے اس سے شہوت و ہوائے نفس پیدا ہوتی ہے، گیارہویں تجلی شیطانی ہے اس سے نافرمانی و گناہ پیدا ہوتا ہے، بارہویں تجلی شمس کی ہے جس سے نور ِ برق پیدا ہوتا ہے، تیرھویں تجلی ماہتاب کی ہے جس سے نور ِ پر تو پیدا ہوتا ہے اور چودھویں تجلی اسما کے نقوش یعنی اسم اللہ، لِلّٰہ، لَہٗ، ھو، نقوشِ ننانوے اسمائے باری تعالیٰ، نقش اسمِ فقر اور نقش اسمِ محمدؐ کی تجلی ہے۔ ان اسما مبارک کے ہر حرف سے چراغ کی بتی کی طرح ایک روشن تر شمع منور ہوتی ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھنا چاہیے ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اَلسَّکُوْنُ حَرَامٌ عَلٰی قُلُوْبِ الْاَوْلِیآء(ترجمہ:اولیا کرام کے دلوں پر سکون حرام ہے) یہاں سکون سے مراد کسی ایک منزل یا مقام پر ٹِک جانا اور آگے ترقی کرنے سے رک جانا ہے۔(عین الفقر)
مجالستہ النبیؐ میں آپؒ تجلی کی دو اقسام بیان فرماتے ہیں :
1 ۔ تجلی نوری 2 ۔ تجلی ناری
تجلی نوری وہ ہے جو نورِ الٰہی ،نورِ نبی اللہ، نورِ قلب ، نورِ روح، نورِ سِرّ، نور ِ فرشتگان اور نور خاکی اہلِ اسلام سے ہوتی ہے جب یہ سارے نور ظاہری و باطنی طور پر وجود میں جمع ہو جاتے ہیں تو جمعیت ، ترک و توکل، صبر و شکر ، شوق، قناعت ِ دل ، توفیق ِ اطاعت، ذکر و فکر، محبت، فنا و بقا، معرفت ِ الٰہی کا استغراق، ظاہر شریعت کا علم اور باطن کی وہ راہ حاصل ہوتی ہے جس کی کوئی حد نہیں ہے ۔ 
دوسری تجلی ناری ہے اور یہ نفس کی آگ ہے یعنی غصہ، غضب، عداوت اور کینہ ہے۔ شیطانی آگ ہے جس سے حرص ،طمع ، دنیا کی طلب اور گناہ جنم لیتے ہیں۔ جنونیت کی آگ ہے جس سے رجوعاتِ خلق، دنیاوی درجات میں ترقی، اہل ِ دنیا کو تابع کرنا اور غیب عالم یعنی جن ودیو سے یک وجود ہونے کی خواہشات پیدا ہوتی ہیں۔ شراب پینے، اللہ تعالیٰ کے منع کردہ کام کرنے، بدعت اختیار کرنے، نماز کو ترک کر دینے، حج و زکوٰۃ کو چھوڑ کر مردود ہوجانے اور کافر و یہود سے اخلاص رکھنے کی نوبت آتی ہے۔ جب ہر قسم کی یہ آگ وجود میں داخل ہوجاتی ہے تو وجود میں فرعونیت کے مراتب ظاہر ہو جاتے ہیں دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ نیکی و بدی کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔ یہ مقامات ناری ہیں‘ استدراج ہیں یہاں تجھے جو کچھ دکھائی دے اس کا اعتبار نہ کر کہ یہ سب خلافِ شرع مردود ہے اس پر لعنت ہو۔‘‘ (مجالستہ النبیؐ)
٭ ’’ یاد رکھ کہ اس کے علاوہ تجلیاتِ ظاہر اور بھی ہیں جنہیں شیطانی و نفسانی تجلیات کہا جاتا ہے ایک تجلی سیم و زر (مال و دولت) ہے جو شیطانی ہے اور دوسری تجلی زن ہے جو نفسانی ہے ۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:
ترجمہ: ’’ عورتیں شیاطین ہیں جنہیں ہماری آزمائش کے لیے پیدا کیا گیا ہے میں ان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔‘‘(عین الفقر)
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس تجلی کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’اہلِ شریعت کے چہرے پر تجلی چمکتی ہے، اہلِ طریقت کے دل میں تجلی چمکتی ہے، اہل ِ حقیقت کے مشاہدہ میں تجلی روشن ہوتی ہے اور اہل معرفت کے سر سے لے کر قدم تک تجلی روشن ہوتی ہے معلوم ہونا چاہیے دو تجلیاتِ ظاہر شیطانی و نفسانی ہیں ، سونا چاندی (مال و دولت ) تجلی شیطانی ہے اور عورت تجلی نفسانی ہے۔‘‘ (شمس الفقرا)
استفادہ کتب:
محک الفقر کلاں تصنیف حضرت سخی سلطان باھُوؒ
عین الفقر تصنیف حضرت سخی سلطان باھُوؒ
رسالہ روحی شریف تصنیف حضرت سخی سلطان باھوؒ
مجالسۃ النبیؐ تصنیف حضرت سخی سلطان باھُوؒ
انسانِ کامل تصنیف سیّد عبدالکریم بن ابراہیم الجیلیؒ
فصوص الحکم والایقان تصنیف علامہ ابن ِ عربیؒ
شمس الفقرا تصنیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

اپنا تبصرہ بھیجیں