ذکر |Zikr

ذکر

تحریر:انیلا یٰسین سروری قادری ۔لاہور

جس طرح ہمارے ظاہری جسم کو تندرست رہنے کے لیے اچھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح ہمارے باطنی وجود (روح) کو بھی تندرست و توانا رہنے کے لیے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمارے باطن یعنی روح کی غذا ذکر ِ اللہ ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اَلاَبِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ط(الرعد۔28)
ترجمہ: بیشک ذکر ِ اللہ سے ہی قلوب کو اطمینان (اور سکون) حاصل ہوتا ہے۔
ذکر کیا ہے؟ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
٭ ذکر ایک نور ہے جو حضوری بخشتا ہے۔
٭ ذکر ایک ذوقِ لازوال ہے جو اہل ِ ذکر کو وصال عطا کرتا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)
حضرت شاہ سیّد محمد ذوقیؒ فرماتے ہیں: ’’اللہ کی یاد، یادِ الٰہی میں جمیع غیر اللہ کو دِل سے فراموش کر کے حضورِ قلب کے ساتھ قرب و معیت ِ حق تعالیٰ کا انکشاف حاصل کرنے کی کوشش کو ’ذکر‘ کہتے ہیں۔‘‘ (سرِ دلبراں)

قرآن و حدیث سے ذکر کے دلائل
قرآنِ کریم کی بہت سی آیاتِ کریمہ ذکر کی اہمیت پر دلالت کرتی ہیں۔ یہاں چند آیات کو تحریر کیا جاتا ہے:
٭  فَاذْ کُرُوْنِیْٓ اَذکُرُکُمْ.
ترجمہ: پس تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔

٭ ترجمہ: اے ایمان والو !تم اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو۔ اور صبح و شام اس کی تسبیح کیا کرو۔ (الاحزاب۔ 41 -42)
٭ ترجمہ: اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، اللہ نے ان سب کے لیے بخشش اور عظیم اجر تیار فرما رکھا ہے۔ (الاحزاب۔35)
٭ ترجمہ: اور اپنے ربّ کو کثرت سے یاد کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو۔ ( آ لِ عمران۔41)
حدیث ِ قدسی ہے :’’ اہل ِذکر میرے ہم نشین ہیں۔‘‘ ( مسند امام احمد) 
بہت سی احادیث ِ مبارکہ بھی ذکر کی اہمیت کو بیان کرتی ہیں:
٭ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’ اپنے ربّ کا ذکر کرنے والے ،نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔‘‘
٭ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’جب تم باغاتِ جنت کے قریب سے گزرو تو اس میں سے کچھ کھا لیا کرو‘‘۔ صحابہ کرام  نے عرض کی یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! باغاتِ جنت سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’ذکر کی محافل‘‘۔ (ترمذی)
٭ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مکہ کے کسی راستہ سے گزر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا گزر جمدان پہاڑ کے قریب سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’یہ جمدان ہے مفردون سبقت لے گئے‘‘۔صحابہؓ نے عرض کی ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! مفردون کون ہیں؟‘‘ فرمایا ’’وہ مرد جو اللہ کو کثرت سے یاد کریں اور وہ عورتیں جو اللہ کو کثرت سے یاد کریں۔‘‘ (مسلم)
٭ حضرت ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’کیا میں تمہیں تمہارے افضل ترین عمل کے بارے میں آگاہ نہ کردوں جو تمہارے ربّ کے نزدیک زیادہ پاکیزہ اور تمہارے درجات کو بلند کرنے والا ہے اور تمہارے سونا اور چاندی کے خرچ کرنے سے بھی زیادہ افضل ہے اور اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ تم دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرو، تم ان کی گردنیں اُڑاؤ اور وہ تمہاری گردنیں اڑائیں۔‘‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کی ’جی ضرور بتائیے۔‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’یہ عمل اللہ کا ذکر ہے۔‘‘ (ترمذی)
٭ حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں ’’ذکر ِ الٰہی سے بڑھ کر عذابِ خداوندی سے بچانے والی کوئی چیز نہیں۔‘‘
حدیث ِ قدسی میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے: ’’میں اپنے بندے سے ویسا ہی سلوک کرتا ہوںجیسا وہ میرے متعلق گمان رکھتا ہے ۔جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو اسے میری معیت حاصل ہوتی ہے۔ اگر وہ میرا ذکر اپنے دِل میں کرے تو میں بھی اسی طرح اسے یاد کرتا ہوں۔اور اگر وہ میرا ذکر کسی مجلس میں کرے تو میں اس کا ذکر اس سے بہتر مجلس میں کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آئے تو میں ایک ذراع (بازو جتنا فاصلہ) اس کے قریب ہوتا ہوں۔ اگر وہ ایک ذراع میرے قریب آئے تو میں دو ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں۔ اگر وہ چل کر میری بارگاہ میں حاضر ہو تو میری رحمت دوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔‘‘ ( مسلم، کتاب الذکر ۔بخاری،کتاب التوحید ۔ترمذی)

اولیا و علما کرام کے اقوال سے ذکر کے دلائل

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
٭ ذکر بارگاہِ الٰہی سے حاصل ہونے والی توفیق و تحقیق اور مصطفی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ سے عطا ہونے والی تلقین کا نام ہے۔
٭ جو شخص ذکرِاللہ میں مشغول رہتا ہے وہ ثانیٔ خضر ہو جاتا ہے اور جو شخص ذکر ِاللہ سے غافل رہتا ہے وہ مردود تر ہو جاتا ہے۔ (نورالہدیٰ کلاں) 
٭ ابن عطا اللہ سکندری ؒ فرماتے ہیں ’’ذکر سے دِ ل کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دائمی حضوری حاصل ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نسیان اور غفلت سے چھٹکارہ بھی۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ ذکر اللہ کے اسم ِ ذات (اللہ) یا اس کی کسی صفت کو بار بار دہرانے کا نام ہے۔ اسی طرح اس کے کسی حکم، فعل یا اس کے علاوہ دوسرے امور جو قربِ الٰہی کے باعث ہوں‘ یہ تمام ذکر میں شامل ہیں۔‘‘ (مفتاح الفلاح،ص۴)
٭ امام ابو القاسم قشیریؒ فرماتے ہیں ’’ذکر ولایت کا منشور، وصال کا مینارہ، راہِ سلوک پر چلنے کی علامت اور منزل تک پہنچنے کی دلیل ہے۔ ذکر سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ تمام خصائل ِ حمیدہ جو ذکر کی طرف ہی راجع ہیں تمام کا منبع ’ذکر‘ ہی ہے۔‘‘ (تصوف کے روشن حقائق)
٭ ابن ِقیم الجوزیہ فرماتے ہیں ’’بلاشک و ریب چاندی و تانبے کی طرح دِل بھی زنگ آلود ہو جاتا ہے اور اس کی صفائی ذکر سے ممکن ہے۔ ذکرِ الٰہی دل کو چمکتے ہوئے آئینہ کی مانند کر دیتا ہے۔ اور جب ذکر ترک کر دیا جاتا ہے تو دل پھر زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ جبکہ زنگ لگنے کے دو سبب ہیں:
۱) غفلت 
۲) گناہ
اور اس کی صفائی بھی دو چیزوں سے ہوتی ہے۔
۱) استغفار 
۲) ذکر
٭ امام فخر الدین رازی ؒ فرماتے ہیں: ’’جہنم میں داخل ہونے کا سبب ذکر ِاللہ سے غفلت ہے اور عذابِ جہنم سے چھٹکارا ذکر ِ اللہ سے ہی ممکن ہے۔‘‘ اصحابِ ذوق و محبت فرماتے ہیں ’’جب قلب ذکر ِ اللہ سے غافل ہوتا ہے تو دنیا اور اس کی خواہشات کی طرف متوجہ ہو کر حرص و حرمان میں مبتلا ہو جاتا ہے اور پھر ایک رغبت سے دوسری رغبت کی طرف اور ایک طلب سے دوسری طلب کی جانب منتقل ہوتا رہتا ہے حتیٰ کہ تاریکیوں میں گھر جاتا ہے اور جب اس کے دل پر اللہ کے ذکر اور معرفت کا دروازہ کھلتا ہے تو ان تمام آفات اور مصائب سے چھٹکارا حاصل کرکے اسے ربّ تعالیٰ کی معرفت کا شعور حاصل ہو جاتا ہے۔‘‘ (تفسیر کبیر۔امام رازی۔ جلد نمبر۴،ص۲۷۴)
٭ شیخ احمد زروق ؒ فرماتے ہیں کہ اقوال، افعال اور اعیان کے خواص ایک ثابت شدہ حقیقت ہیں لیکن ذکر کے خواص ان سب سے بڑھ کر واضح ہیں۔ کوئی عمل ذکر ِ اللہ سے بڑھ کر عذابِ الٰہی سے بچانے والا نہیں۔ (قواعد تصوف۔احمد ذروق، ص۳۷)
٭ شیخ احمد بن عجیبہ فرماتے ہیں کہ بندہ اس وقت ہی مقامِ رضا تک رسائی کرتا ہے جب وہ سلوک کے ان ابتدائی مراحل کو عبور کرے :
۱) وہ اسم جلالت (اللہ) کے ذکر میں مستغرق ہو۔ یہ اسی کے لیے ممکن ہے جسے مرشد کامل اکمل سے ذکر کی اجازت ہو۔
۲) اسے ذاکرین کی صحبت میسر ہو۔
۳) وہ شریعت ِ محمدیہؐ پر سختی سے کاربند ہو۔ (تصوف کے روشن حقائق)
قرآن و حدیث اور صوفیا کرام کے اقوال سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت و رضا پانے کا عملی طریقہ کثرتِ ذکرِاللہ اور صحبت ِ ذاکرین ہے۔ کیونکہ ان کی صحبت نفس ِ امارہ کا قلع قمع کر دیتی ہے جس سے قلب شفاف آئینہ کی مانند ہو جاتا ہے جو معرفت ِ الٰہی کی نوری تجلیات کا بغور مشاہدہ کرتا ہے۔

ذکر کی اقسام

شیخ ابو سعید ؒ ذکر کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ذکر کی تین اقسام ہیں :
۱) پہلا ذکر ایسا ہے جس میں ذاکر کو ذکر کی عادت ہوتی ہے اور ذاکر ایسا ذکر اپنی زبان سے کرتا ہے مگر اس کا دِل اس ذکر سے غافل رہتا ہے۔
۲) دوسری قسم کے ذکر میں ذاکر زبان سے تو ذکر کرتا ہے مگر زبان کے ساتھ ساتھ اس کا دِل بھی اس ذکر میں حاضر ہوتا ہے اور طالب ِ مولیٰ کو ایسے ذکر سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ 
۳) تیسری قسم کا ذکر ایسا ذکر ہے جس میں دِل ذکر کرتا ہے اور زبان بند رہتی ہے ۔ ایسے ذکر کی قدر اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ (سلطان الوھم)
حضرت شیخ عبدالقادر عیسیٰ الشاذلی ؒ ’حقائق عن ِ التَّصَوُّفْ‘ میں ذکر کی کی دو اقسام بیان فرماتے ہیں:
۱) ذکر ِ سرّی و جہری
۲) ذکر ِ دل اور زبان کا ذکر
ذکر سرِّی و جہری: 
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
ترجمہ: اور اپنے ربّ کا ذکر کرو اپنے دل میں عاجزی سے اور خوف سے اور بغیر بلند آواز کے۔
مندرجہ بالا آیت مبارک ذکرِ خفی یعنی سرّی ذکر پر دلیل ہے۔
حضرت ابن ِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانے میں فرضی نمازوں کے بعد ذکر بالجہر معروف تھا۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ جب میں ذکر کی آواز سنتا تو مجھے معلوم ہو جاتا کہ لوگ نماز سے واپس آرہے ہیں۔ (الحدیث)
بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ تلاوت کا کچھ حصہ سراً اور کچھ حصہ جہراً ہونا چاہیے کیونکہ سراً تلاوت کرنے والا کبھی اکتا جاتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ جہر سے انس حاصل کرے اور اسی طرح ذکر بالجہر کرنے والا جب اکتا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ ذکر ِ سرّی سے راحت حاصل کرے۔
٭ ذکر ِ الٰہی یقینا مشروع ہے خواہ سراً ہو یا جہراً ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان دونوں قسموں کی طرف رغبت دلائی ہے کیونکہ بعض احادیث میں بلند آواز سے اور بعض احادیث میں پست آواز سے ذکر کا حکم دیا گیا ہے۔ لیکن علمائے شریعت فرماتے ہیں کہ ذکرِ جہر اس وقت افضل ہے کہ جب وہ ریا سے پاک ہو اور کسی نمازی، قاری یا سونے والے کی اذیت کا باعث نہ ہو۔ (تصوف کے روشن حقائق)
ذکرِ’’اللہ‘‘ کی کنہہ دیدارِ الٰہی ہے اور جس ذکر سے ذاکر کو دیدارِ الٰہی ہی میسر نہ ہو وہ محض خیال آرائی ہے۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
ذکر بہ رساند بہ دیدارِ خدا
جز بدیدارش ذکر کی باشد روا
ترجمہ:ذکر ِاللہ دیدارِ پروردگار تک پہنچاتا ہے۔ جس ذکر کا ثمرہ دیدارِ خداوندی نہ ہو وہ ذکر ہی کیا؟ (نورالہدیٰ کلاں)
آپ ؒ مزید فرماتے ہیں: ’’تفکر سے کیا جانے والا ذکر ہی فیض و فضل کا حامل ہوتا ہے۔ یہ ذکر روزِ ازل ہی سے ذاکروں کو نصیب ہے۔‘‘ (نورالہدیٰ کلاں) 
بِنا تفکر محض زبان سے بلند آوازمیں کیا جانے والا ذکر صرف و صرف وقت و قوت کا ضیاع ہے۔ اس سے ذاکر کا قلب منور نہیں ہوتا بلکہ اُلٹا تاریک اور مغرور ہو جاتا ہے۔ لہٰذا جس ذکر سے ذاکر کو معرفت ِ حق تعالیٰ نصیب نہ ہو ذاکر کو ایسے ذکر سے ہزار بار توبہ کرنی چاہیے۔ بِنا تفکر ذکر ذاکر کو منہ کے بل گِرا دیتا ہے۔
حدیث پاک ہے:
اَلذِّکْرُ بِلَا فِکْرِ کَصَوْتِ الْکَلْبَ۔
ترجمہ:فکر کے بغیر ذکر کرنا گویا کتے کا بھونکنا ہے۔ (عین الفقر)

ذکر ربّ ذوالجلال کی یاد اور حمد و ثنا کا نام ہے۔ وہ یاد جس میں محبت نہ ہو اور وہ حمد و ثنا (ذکر) جس میں ادب ہی نہ ہو وہ کیسے ذاکر کے لیے مفید ہو سکتا ہے؟ اسے مثال سے کچھ اس طرح واضح کرتے ہیں ’اگر ہم انسانی زندگی کا بغور جائزہ لیتے ہیں تو ہر انسان چاہے بچہ ہے‘ نوجوان ہے یا بوڑھا اسے اپنی عزتِ نفس بہت عزیز ہوتی ہے۔ ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ جب بھی اسے مخاطب کیا جائے تو دھیمی اور نرم آواز سے مخاطب کیا جائے، بلند اور سخت لہجے میں پکارنا مخاطب کے مزاج پر گراں گزرتا ہے جس سے بات بننے کی بجائے بگڑ جاتی ہے۔ یہ تو صرف ایک ناقص انسان کا مزاج ہے کہ اسے اپنی عزت و ادب بہت عزیز ہوتے ہیں تو پھر ادب کو ملحوظِ خاطر نہ رکھتے ہوئے اونچی آواز میں اللہ ربّ العالمین (جس کے لیے ہی تمام عزت و کبریائی ہے) کو پکارنا کیسے بہتر ہو سکتا ہے؟ اور پھر اونچی آواز سے ذکر کرنے میںریاکاری کا عنصر بھی شامل ہو جاتا ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں: ’’ذکر کا تعلق آواز سے نہیں کیونکہ ذکر کا تعلق اگر آواز سے ہوتا تو آواز سے ساتھ ذکرِ ’یاھُو‘ تو کبوتر، فاختہ و طوطی و دیگر پرندے بھی کرتے ہیں۔‘‘ (نورالہدیٰ کلاں)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ اپنی تصنیف مبارکہ ’’سلطان الوھم‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے کہ جو اللہ کا ذکر تو کرتا ہو مگر اس کا دِل اللہ سے غافل ہو تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے ذاکر سے جھگڑا کرے گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے ’’ایسے جسم پر لعنت ہو جو بظاہر اللہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اس کا دِل اللہ سے غافل ہوتا ہے۔‘‘ (سلطان الوھم)

ذکر ِدِل و زبان:

امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ ذکر دل (قلب) کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور زبان سے بھی۔ لیکن افضل ذکر یہ ہے کہ دِل اور زبان دونوں سے ایک ساتھ کیا جائے ۔ ان دونوں میں سے افضل قلبی ذکر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذکر کرنے والا اپنا مطلوب و مقصود صرف رضائے خداوندی رکھے۔ (تصوف کے روشن حقائق)
امام غزالی ؒ فرماتے ہیں ’’اہل ِ بصیرت پر یہ بات منکشف ہوئی ہے کہ اعمال میں سب سے افضل ذکر ہے۔ البتہ اس کے تین غلاف ہیں ان تین غلافوں کے بعد اصل مغز ہے۔ لیکن ان غلافوں کو اس وجہ سے فضیلت حاصل ہے کیونکہ یہ اس کے اصل تک پہنچنے کا راستہ ہیں۔
۱) لسانی ذکر
۲) قلبی ذکر۔ جبکہ دل کو اس کی موافقت کی ضرورت ہے یہاں تک کہ وہ ذکر کے ساتھ حاضر رہے۔ اگر دل کو اپنی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو وہ افکار کی وادیوں میں گم ہو جائے گا۔
۳) دل میں ذکر اس قدر پختہ اور غالب ہو جائے کہ اسکو کسی غیر کی طرف متوجہ کرنے کے لیے تکلف کی ضرورت ہو، جس طرح کے دوسری صورت میںدل کو ذکر کی طرف متوجہ کرنے کے لیے تکلف کی ضرورت ہوتی ہے۔ (تصوف کے روزشن حقائق)
کون سا ذکر بہتر ہے؟ 
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں: اُذْکُرُوْا ذِکْرًا خَامِدًا اَیْ خُفْیًا۔ترجمہ:اللہ کا ذکر خاموشی اور خفیہ طریقے سے کرو۔

شیخ امین الدین کازرونیؒ اپنے رسالہ میں فرماتے ہیں کہ خَیْرُ الذِّکْرُ الْخَفِی  (ترجمہ: حضرت محمدؐ کا فرمان ہے کہ بہترین ذکر ذکرِ خفی ہے)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:’’اگر کوئی سوال کرے ذکر ِ خفی کے بارے میںکہ کیا ذکر ِ پوشیدہ کو بہتر کہا جائے گا یا اونچی آواز سے ذکر کو بہتر کہا جائے؟ میرا اُس کو جواب ہو گا کہ ذکرِ خفی سے مراد ایسا ذکر نہیںکہ جو زبان سے آہستہ آواز سے کیا جائے کیونکہ ایسا کرنا بھی زبانی ذکر ہے۔ ذکر ِ خفی بہت ہی بہتر ہے ذکرِ دل،ذکرِ سِرّ اور ذکرِ جان سے کیونکہ ظاہری علم اور علم ِ مجازی سے ذکر ِ خفی کی معرفت حاصل نہیں ہو سکتی۔ (سلطان الوھم)

اسمِ اللہ ذات کے ذکر کا حکم

چونکہ ذکر کے مختلف کلمات ہیں اور ہر کلمے کا دِل پر ایک خاص اثر اور تاثیر ہوتی ہے اس لیے صوفیا کرام جو کہ دِلوں کے طبیب اور تعلیم و تربیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نائب ہوتے ہیںوہ اپنے مریدوں کو خاص ذکر کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ خاص ذکر کیا ہے؟ خاص ذکر اسمِ اللہ ذات کا ذکر ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور یاد کرتے رہا کرو اپنے ربّ کے نام( اسمِ اللہ ذات) کوصبح بھی اور شام بھی۔‘‘ (الدھر:25)
ارشادِ نبوی ؐ ہے ’’جب تک روئے زمین پر اللہ کا ذکر رہے گا تو اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی۔ (الحدیث)
حضرت شیخ جنید بغدادی ؒ فرماتے ہیں’’اسمِ اللہ ذات کا ذاکر اپنی ذات سے بے خبر اور اپنے ربّ کے ساتھ واصل ہوتاہے ۔وہ احکامِ الٰہیہ پر سختی سے کار بند اور دِل کے ساتھ اس کے مشاہدہ میں مشغول رہتا ہے۔ حتیٰ کہ مشاہدہ کے انوارو تجلیات اس کی بشری صفات کو جلا کر رکھ دیتے ہیں۔‘‘ (تصوف کے روشن حقائق)
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو ؒ فرماتے ہیں: ’’ذکر اصل عبادت ہے، ذکر اساسِ وصل ہے، ذکر معرفت ہے اور ذکر مشاہدۂ معراج ہے اور تصورِ اسمِ اللہ ذات ہی وہ ذکر ہے جس سے مشاہدۂ حضوری اور مشاہدۂ انوارِ دیدار ِ پروردگار نصیب ہوتا ہے۔‘‘ (نورالہدیٰ کلاں)
آپؒ مزید فرماتے ہیں: ’’جو شخص ذاکر ِ خدا ہونے کا مدعی ہے اُسے چاہیے کہ وہ ہمیشہ ذکر ِ اسمِ اللہ ذات میںمشغول رہ کرحضورِ حق میں لقائے الٰہی سے مشرف رہے۔‘‘ (نور الہدیٰ کلاں) 
اب یہاں یہ بات قابل ِ غور ہے کہ ذکروتصورِ اسمِ اللہ ذات کیسے کیا جائے تو قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو کھڑے، بیٹھے اور کروٹوں کے بَل لیٹے ذکر ِ اللہ کرو۔‘‘ (النساء :103)
ہمارے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اس آیت کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’اس آیت مبارکہ میں کروٹوں کے بَل لیٹنے سے مرادسونا ہے یعنی سوتے ہوئے بھی ذکرِ اللہ کرنا ہے اورسوتے ہوئے صرف ذکرِ پاس انفاس (سانسوں کے ساتھ ذکر ِ خفی) ہی ہو سکتا ہے کیونکہ سانس کسی لمحہ بھی بند نہیں ہوتا۔‘‘ (حقیقت ا سم ِ اللہ ذات)
یعنی ذکر ِ اسم ِ اللہ ذات ہے اور اس کا بہترین طریقہ پاس انفاس ہے۔

پاس انفاس افضل ترین ذکر

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’سانس گنتی کے ہیں اور جو سانس ذکر اسمِ اللہ کے بغیر نکلے وہ مردہ ہے۔‘‘ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
جو دَم غافل سو دم کافر، سانوں مرشد ایہہ پڑھایا ھُو
شانِ فقر، شبیہ غوث الاعظم سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں:
٭ ’’پاس انفاس (سانسوں سے ذکر و تصورِ اسمِ اللہ ذات) کے ذکر سے ذاکر کے اوصافِ ذمیمہ، اوصافِ حمیدہ میں بدل جاتے ہیں۔ اس کا اخلاق پاکیزہ ہو جاتا ہے اور وہ صفاتِ الٰہیہ سے متصف ہو کراللہ تعالیٰ کے قرب و وِصال اور مشاہدۂ حق کے قابل ہو جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اسے اپنے انوار میں جذب کر کے باطن میں اپنے ساتھ ملا لیتا ہے۔‘‘ (حقیقتِ اسمِ اَللہ ذات)
٭ زبانی ذکر سے درجات اور ثواب تو حاصل ہوتا ہے لیکن قلب یا من کے قفل کو کھولنے والا ذکر، ذکر ِ پاس انفاس ہے جسے سلطان الاذکار کہا جاتا ہے۔ (حقیقتِ  اسم اللہ ذات )
قرآن و حدیث اور فقرا کاملین کے ارشادات کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کوئی بھی طالب ِ حق اس وقت تک قرب و دیدارِ الٰہی کو نہیں پاسکتا جب تک وہ ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کے ذریعے اپنے نفس، دنیا اور شیطان سے خلاصی نہیں پا لیتا۔ ظاہری اعمال سے انسان کو ثواب تو مل جاتا ہے لیکن معرفت ِ الٰہی نہیں ملتی اس کے لیے طالب ِ حق کوسروری قادری مرشد کامل اکمل جو بیعت کے پہلے روز ہی مرید کو اسمِ اللہ ذات عطا فرماتے ہیں‘ تلاش کرنا چاہیے اور جب پالے تو عاجزی و صدق سے ان کی غلامی اختیار کر لینی چاہیے تاکہ مرشد کے فضل سے ذکرو تصور اسمِ اللہ ذات کے فیوض و برکات حاصل کر سکے۔
سلطان العاشقین حضر ت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطا ن محمد اصغر علی ؒ کے روحانی وارث ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کامل ہیں اور قدمِ محمدیؐ پر فائز ہیں۔ دنیا بھر سے ہزاروں خوش نصیب طالبانِ مولیٰ آپ مدظلہ الاقدس کے دست ِ اقدس پر بیعت ہو کر ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات حاصل کر کے معرفت حق تعالیٰ سے فیض یاب ہو چکے ہیں، ہزاروں راہِ سلوک کی منازل طے کر رہے ہیں۔ اللہ پاک آپ مدظلہ الاقدس کے فیوض و برکات، صحت و تندرستی اور سلامتی میں ہزارہا برکتیں عطا فرمائے اور ہمیں آپ مدظلہ الاقدس کی صدق و عاجزی والی غلامی ہمیشہ عطا فرمائے۔ آمین
استفادہ کتب:
نور الہدیٰ کلاں تصنیف سلطان باھوؒ
سلطان الوھم ایضاً
شمس الفقرا تصنیف لطیف سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس
حقیقت ِ اسمِ اللہ ذات تصنیف۔ ایضاً
تصوف کے روشن حقائق: حضرت شیخ عبدالقادر عیسیٰ شا ذلیؒ

اپنا تبصرہ بھیجیں