حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا

سیدہ کائنات حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا

عالمِ ھاھویت میں نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تخلیق کے بعد جو سب سے پہلا نور تخلیق ہوا وہ سیّدہ کائنات حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کا ہے۔یوں آپ رضی اللہ عنہا فقر کی پہلی سلطان ہیں اور فقر یعنی دیدار و وِصالِ حق تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہا کے وسیلہ سے عطا ہوتا ہے کیونکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مقاماتِ فقر و عشقِ حقیقی اس اعلیٰ ہمت و کمال کے ساتھ طے کیے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی امت میں سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہا کو امانتِ فقر منتقل کرنے کے لیے چن لیا۔ تواریخ آئینہ تصوف میں فصل ہفتم میں رقم ہے کہ ”جناب سیّدہ پاکؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کیا میں قیامت کو تنہا اٹھوں گی”۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ”سیّدہ تم سے عورتوں کی تعلیمِ طریقت جاری ہوگی اور جس قدر عورتیں امتِ محمدیہ کی تمہارے سلسلہ میں داخل ہوں گی وہ روزِ حشر تمہارے گروہ میں اٹھائی جائیں گی اور یہ مرتبہ ازل سے اللہ تعالیٰ نے خاص تمہارے لیے مخصوص فرمایا ہے اور عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم کو بحکمِ الٰہی امانتِ فقر عطا کی جائے گی۔ حصولِ اجازت کے بعد تم (امام) حسن (رضی اللہ عنہٗ) کو امانت و خلافت عطا کر دینا۔ اس ارشادِ فیضِ کے ایک ماہ بعد حضرت سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صفر 11ہجری کو با امرِ الٰہی جناب سیّدہ پاک کو امانتِ فقر منتقل فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ ”یا سیّدہ جو تمہارے سلسلہ میں تمہاری اجازت سے درودِ احمدیؐ تلاوت کرے گا اس کو ہماری روئیت ہوا کرے گی”۔ پھر سبز رنگ کی اونی ردائے مبارک جو شاہِ یمن نے تحفتاً بھیجی تھی اس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مس فرما کر حضرت سیّدہ پاکؓ کے سر پر ڈال دیا اور فرمایا ”سیّدہ مبارک ہو آج اللہ تعالیٰ نے تم کو فقر عطا فرمایا ”۔

بعد ازاں بحکم و اجازت سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ کو خلافت و امانت عطا فرمائی۔
حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ جو تمام مسالک اور سلاسل میں مقبول ہیں، بھی اللہ تعالیٰ سے وصل اور وصال کے لیے حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو وسیلہ اور ذریعہ مانتے ہیں۔ اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں

اللہ تعالیٰ سے وصل اور وصال کے دو طریقے اور راستے ہیں ایک نبوت کا طریقہ اور راستہ ہے۔ اس طریق سے اصلی طور پر واصل اور موصل محض انبیاء علیہم السلام ہیں اور یہ سلسلہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ گرامی پر ختم ہوا۔ دوسرا طریقہ ولایت کا ہے۔ اس طریق والے واسطے (وسیلے) کے ذریعے (اللہ سے) واصل اور موصل ہوتے ہیں۔ یہ گروہ اقطاب، اوتاد، ابدال، نجبا وغیرہ اور عام اولیاء پر مشتمل ہے اور اس طریقے اور راستے کا واسطہ اور وسیلہ حضرت سیّدنا علی کرم اللہ وجہہ کی ذاتِ گرامی ہے اور یہ منصب عالی آپؓ کی ذاتِ گرامی سے متعلق ہے اور اس مقام میں حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قدم مبارک حضرت امیر کرم اللہ وجہہ کے سر پر ہے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہم اس مقام میں حضرت سیّدنا علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ شامل اور مشترک ہیں۔ (مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ)۔

حضرت مجدد الف ثانیؒ کے اس قول کی تصدیق اور تفسیر حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے ان اقوال سے ہوتی ہے جو آپؒ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور امامین پاک رضی اللہ عنہم کے مرتبۂ فقر میں یکتائی کے متعلق فرمائے۔ آپؒ فرماتے ہیں

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فقر پایا۔ عین الفقر 

چار صحابہؓ کو چار صفات حاصل ہیں۔ صدق حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہٗ کو، محاسبۂ نفس اور عدل حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ کو، سخاوت و حیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کو اور علم اور فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو۔اسرارِ قادری 

حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا فقر کی پلی ہوئی تھیں اور انہیں فقر حاصل تھا۔ جو شخص فقر تک پہنچتا ہے ان ہی کے وسیلہ سے پہنچتا ہے۔ جامع الاسرار

اَلۡفَقۡرُ فَخۡرِیۡ(فقر میرا فخر ہے) میں کمال امامین پاک حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کو نصیب ہوا جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خاتونِ جنت حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ محک الفقر کلاں

حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے ان اقوال سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ چاروں پاک ہستیاں فنا فی اللہ بقا باللہ کے مقامِ وحدت پر یکتا و یک وجود ہیں اور فقر میں اُن کا مرتبہ برابر ہے۔ اسی لیے یہ سب فقرِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں شامل اور مشترک ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فقر کے مختارِ کل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ۔

اَلۡفَقۡرُ فَخۡرِیۡ وَالۡفَقۡرُ مِنِّی 

ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے.

جس ہستی نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فقر حاصل کیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نورِ وحدت میں غرق ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کا عین ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ یکتا و یک وجود ہو گیا۔ جب حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے فقر حاصل کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا

فاطمہ (رضی اللہ عنہا) مجھ سے ہے۔

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے ”حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا فاطمہ (رضی اللہ عنہا) تو بس میرے جسم کا ٹکڑا ہے، اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے”۔ مسلم۔ نسائی

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہٗ سے مروی ہے ”حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا : بے شک فاطمہ (رضی اللہ عنہا) میری شاخ ہے، جس چیز سے اسے خوشی ہوتی ہے اس چیز سے مجھے بھی خوشی ہوتی ہے اور جس سے اسے تکلیف پہنچتی ہے اس چیز سے مجھے بھی تکلیف پہنچتی ہے”۔ امام احمد۔ حاکم

حضرت علی رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے ”حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری ناراضگی پر ناراض ہوتا ہے اور تمہاری رضا پر راضی ہوتا ہے”۔ حاکم طبرانی

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو عادات و اطوار، سیرت و کردار اور نشست و برخاست میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا ۔

حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا آقائے دو جہان صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا سن 5قبل از ‘ بعثت اس وقت پیدا ہوئیں جب آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم غارِ حرا کی تنہائیوں میں اپنے رب کی ذات پر غور وفکر میں مصروف رہتے تھے۔ سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فطری طورپر نہایت ذہین اور تنہائی پسند طبیعت کی مالک تھیں۔ بچپن میں نہ ہی عام بچیوں کی طرح کھیلنے کودنے کا شوق تھا نہ دنیا کی رنگینیوں میں کوئی کشش محسوس کرتی تھیں۔ کمسنی سے ہی آپ رضی اللہ عنہا عشقِ حقیقی میں گم تھیں اور اکثر اپنے محترم والدین سے سوال کیا کرتی تھیں کہ ”اللہ تعالیٰ جس نے دنیا اور دنیا کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے کیا وہ ہمیں نظر بھی آ سکتا ہے”۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی ان کے شوق و طلب کو دیکھتے ہوئے انہیں خدا شناسی کی باتیں بتاتے رہتے۔ اس طرح آپ رضی اللہ عنہا کم عمری سے ہی علم و ہدایت کے منبع مختارِ فقر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے علمِ معرفتِ الٰہی حاصل کرنے لگیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہا کو کمال درجے کی ذہانت عطا کی تھی جو بات ایک بار سن لیتیں ہمیشہ یاد رکھتیں۔
ہجرتِ مدینہ کے بعد ۲ ہجری میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کا مبارک نکاح حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کر دیا۔ حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا عادات و خصائل میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا آئینہ تھیں۔ وہ نہایت متقی، صابر، قانع اور دیندار خاتون تھیں۔ گھر کے کام کاج خود کرتی تھیں۔ چکی پیستے پیستے ہاتھوں پر چھالے پڑ جاتے، گھر میں جھاڑو دینے اور چولہا پھونکنے سے کپڑے میلے ہو جاتے تھے لیکن ان کی پیشانی پر بل نہ آتا تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تنگدست رہتے تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیّدہ کائنات ہوتے ہوئے اور شہنشاہِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیٹی ہوتے ہوئے بھی فقر و فاقہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا پورا پورا ساتھ دیا اور نہ کبھی شکایت کی اور نہ ہی کسی آسائش کی خواہش کی۔ آپ رضی اللہ عنہا تسلیم و رضا کی انتہا پر تھیں اس لیے ہر حال میں اپنے رب سے راضی تھیں۔
حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا اس فقر و غنا کے ساتھ ساتھ کمال درجہ کی عابدہ تھیں۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ سے روایت ہے کہ ”میں نے اپنی والدہ کو شام سے صبح تک عبادت کرتے اور خدا کے حضور گریہ زاری کرتے دیکھا لیکن انہوں نے کبھی اپنی دعاؤں میں اپنے لیے کوئی درخواست نہ کی”۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا بیان ہے کہ ”میں فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو دیکھتا تھا کہ کھانا بھی پکا رہی ہیں اور خدا کا ذکر بھی ساتھ ساتھ کرتی جا رہی ہیں ‘ چکی بھی پیس رہی ہیں اور لبوں پر آیاتِ قرآنی کا ورد بھی جاری ہے”۔

اقبالؒ آپ رضی اللہ عنہا کے متعلق فرماتے ہیں:

نوری و ہم آتشی فرمانبرش

گم   رضائش در  رضائے شوہرش

آں گردان و لب قرآں سرا

اشک او برچید  جبرائیل از زمین

ہمچو شبنم ریخت بر عرش بریں

ترجمہ: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اتنے بلند درجات کی حامل اور عظمت و شوکت کی مالک تھیں کہ فرشتے اور جنات بھی آپ رضی اللہ عنہا کے تابع فرمان تھے لیکن آپ رضی اللہ عنہا کی عاجزی و انکساری کا یہ عالم تھا کہ اتنے اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز ہوتے ہوئے بھی اپنے شوہر کی رضا میں اپنی رضا کو گم کر چکی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی گود میں پرورش پائی جو صبر و رضا کے پیکر تھے چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا بھی صبر و رضا کا پیکر بنیں۔ چکی پیستے پیستے آپ رضی اللہ عنہا کے مبارک ہاتھوں پر زخم ہو گئے تھے۔ تکلیف کے باوجود آپ رضی اللہ عنہا کے نازک ہاتھ چکی پیستے رہتے اور زبان مبارک پر قرآنی آیات کا ورد جاری رہتا۔ دن بھر کام کاج سے تھک کر جب رات کو اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوتیں تو عشقِ الٰہی سے سرشار آنکھوں سے بے اختیار آنسو چھلک پڑتے۔ یہ اشک اتنے پاکیزہ اور اللہ کے ہاں اتنے گراں قدر ہوتے تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام انہیں زمین سے چن کر شبنم کے موتیوں کی طرح عرشِ بریں پر برساتے۔

ربِ کائنات کی رضا جوئی اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پیروی ہی آپ رضی اللہ عنہا کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپؓ کو لقب ”بتول” عطا کیا گیا یعنی اللہ کی راہ میں دنیا سے قطع تعلق کر لینے والی سچی اور بے لوث بندی۔
باوجود یہ کہ آپ رضی اللہ عنہا دنیاوی مال و دولت کے نام پر گھر میں کوئی اثاثہ نہ رکھتی تھیں، سخاوت کا یہ عالم تھا کہ کچھ بھی ہو سائل کو خالی ہاتھ نہ جانے دیتیں۔ ایک بار ایک نو مسلم کی امداد کے لیے آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی چادر فروخت کر دی۔
آپ رضی اللہ عنہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت میں ہر لمحہ مستغرق رہنے کے باوجود اپنی اولاد کی تربیت اور شوہر کے حقوق سے کبھی غافل نہ ہوئیں اور انہیں بہترین انداز سے پورا کیا۔ یہ آپ رضی اللہ عنہا کی تربیت کا ہی کمال تھا کہ حضرت امام حسن و حسین رضی اللہ عنہم بھی فقر کے اعلیٰ ترین مقامات پر پہنچے۔ بچپن سے ہی انہیں دنیا سے بے رغبتی اورصرف عشقِ الٰہی کی ترغیب دی۔ الغرض جس طرح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کی طرف سے فرض کی گئیں تمام دینی و دنیاوی زندگی کی ذمہ داریوں کو نبھایا کسی عام عورت یا مرد کے لیے ممکن نہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا کی مبارک ذات خواتینِ امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے کہ وہ کس طرح دین و دنیا کی ذمہ داریوں کو بیک وقت احسن طریقے سے نبھائیں۔ ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سیّدہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ”جانِ پدر (مسلمان) عورت کے اوصاف کیا ہیں”؟ انہوں نے عرض کیا ”ابا جان عورت کو چاہیے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کرے، اولاد پر شفقت کرے، اپنی نگاہ نیچی رکھے، اپنی زینت کو چھپائے، نہ خود غیر کو دیکھے نہ غیر اس کو دیکھ پائے”۔
عشق و اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں اس درجہ کامل ہوئیں کہ ہو بہو محبوبِ الٰہی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تصویر بن گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اسی قدر محبت فرماتے تھے۔ جب سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کھڑے ہو جاتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مدینہ سے کہیں باہر تشریف لے جاتے تو جانے سے پہلے حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے مل کر جاتے اور واپس آنے پر بھی سب سے پہلے ان سے ملنے جاتے۔ بے شک یہ آپ رضی اللہ عنہا کے بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور بارگاہِ الٰہی میں اعلیٰ ترین مقام اور عظمت کی نشانی ہے۔ ایک بار رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا ”میری بیٹی فاطمہؓ قیامت کے دن اس طرح اُٹھے گی کہ اس پر عزت کا جوڑا ہوگا، جسے آبِ حیات سے دھویا گیا ہے۔ ساری مخلوق اسے دیکھ کر دنگ رہ جائے گی۔ پھر اسے جنت کا لباس پہنایا جائے گا جس کا ہر حُلّہ ہزار حُلّوں پر مشتمل ہوگا۔ ہر ایک پر سبز خط سے لکھا ہو گا ”محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بیٹی کو احسن صورت، اکمل ہیبت تمام تر کرامت اور وافر تر عزت کے ساتھ جنت میں لے جاؤ”۔

سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال سے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا انہوں نے بے اختیار ہو کر دعا مانگی ”بارِ الٰہی روحِ فاطمہؓ کو روحِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس پہنچا دے۔ خدایا مجھے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دیدار سے مسرور کر دے ۔ الٰہی بروزِ محشر شفاعتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محروم نہ فرما”۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جدائی کا سب سے زیادہ صدمہ سیّدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو ہوا۔ تمام کتبِ سیر میں یہ روایت موجود ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کے بعد کسی نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپؓ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی رحلت کے چھ ماہ بعد ہی 3رمضان المبارک 11ہجری کو صرف 29سال کی عمر میں عازمِ فردوسِ بریں ہوئیں۔ وفات سے پہلے حضرت اسماء بنتِ عمیس رضی اللہ عنہا کو بلا کر فرمایا ”میرا جنازہ لے جاتے وقت اور تدفین کے وقت پردہ کا پورا پورا لحاظ رکھنا اور سوائے میرے شوہر کے اور کسی سے میرے غسل میں مدد نہ لینا۔ تدفین کے وقت زیادہ ہجوم نہ ہونے دینا”۔ آپ رضی اللہ عنہا کی وفات رات کے وقت ہوئی اور رات ہی میں آپ رضی اللہ عنہا کی نمازِ جنازہ اور تدفین ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہا کا مبارک مزار جنت البقیع میں ہے۔