Sultan ul Faqr Blog | سلطان الفقر بلاگ

سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے تھا اور ہوگا۔ (انسانِ کامل۔ سیّد عبدالکریم بن ابراہیم الجیلیؒ )
ایمان مومنین پر اللہ کا احسان ہے اور ایمان کا مرکز و محور آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نسبت و تعلق ہی حقیقتاً ایمان ہے۔ یہ تعلق اگر مضبوط و مستحکم ہو تو ایمان کامل اور اگر کمزور ہو تو ناقص و نامکمل اور اگر خدانخواستہ یہ تعلق ٹوٹ جائے تو ایمان کلیتاً ختم ہو جاتا ہے۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ اس تعلق کو یوں بیان فرماتا ہے:
ترجمہ:پس جو لوگ اس(برگزیدہ رسولؐ) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان کی مد د ونصرت کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جوان کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔(سورۃ الاعراف۔157)
جو ذات باعثِ کائنات ہے اس سے عشق و محبت ،وفاواطاعت کے بغیر ایمان کے مکمل ہونے کا تصور ہی نہیں۔ اگراللہ تعالیٰ نے کائنات کو تخلیق کر کے مخلوقات میں اپنے ربّ ہونے کو ظاہر کیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وجہ سے۔ اس لئے دین،ایمان،علم، ۔۔۔مزید پڑھیں

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
*اَلْفَقْرُ فَخَرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ۔
ترجمہ :فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔
فقر دراصل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت کا نام ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فخر فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ایک ایسا گنجینہ ہے جس کی طلب ہر مومن و مسلمان کو ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت تک رسائی کسی کسی کا نصیب ہے ہر کوئی اس حقیقت تک رسائی کا اہل نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ اور آپ کی حقیقت جیسی حقیقت اور کسی کی نہیں، جو راز آپ کی ذاتِ مبارکہ سے ظاہر ہواوہ کسی اور نبی و مرسل سے ظاہر نہیں ہوا۔ تب ہی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اُمتی ہونے کی دعا کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ لِیْ مَعَ اللّٰہِ وَقْتٌ لَا یَسْعُنِیْ فِیْہِ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے ساتھ میرا ایساوقت بھی ہے جس میں مجھ تک نہ کوئی مقرب فرشتہ پہنچ سکتا ہے اور نہ نبی مرسل۔۔۔مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ بے انتہا حسین وجمیل ہے وہ چاہتا تھا کہ اس کے حسن کو کوئی دیکھے، تعریف کرے اور اس میں محو ہو کر ہر چیز بھلا دے۔ اس کے لیے ایک ایسا مجسم آئینہ درکار تھا جس میں وہ اپنا حسن ظاہر کر سکے۔یہی چاہت انسان کی تخلیق کا باعث بنی۔ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک کا سب سے کامل آئینہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ بابرکات بنی۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ نے فرمایا ہے:
* ’’ جان لو کہ جب اللہ واحد نے حجلۂ تنہائی وحدت سے نکل کر کثرت میں ظہور فرمانے کا ارادہ کیا تو اپنے حسن و جمال کے جلوؤں کو صفائی دے کر عشق کا بازار گرم کیا جس سے ہر دو جہان اس کے حسن و جمال پر پروانہ وار جلنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے میم احمدی کا نقاب اوڑھا اور صورتِ احمدی اختیار کی۔‘‘ (رسالہ روحی شریف)
صورتِ احمدی دراصل اللہ تعالیٰ کے نور کی بہترین صورت ہے جس میں کچھ کمی یا خامی نہیں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:’’اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے۔ چراغ فانوس میں ہے فانوس ایسے ہے کہ ایک موتی جو ستارے کی مانند چمکتا ہے۔ یہ چراغ اس برکت والے پیڑ زیتون کے تیل سے روشن ہوتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی۔ قریب ہے ۔۔۔مزید پڑھیں

ظہورِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے عرب کی سر زمین غبارِ راہ سے کثیف اور جہالت سے گرد آلود تھی۔ کوئی انسانی و معاشرتی تنزلی ایسی نہ تھی جو کہ عرب معاشرے میں موجود نہ تھی اور انسانیت کو شرماتی نہیں تھی۔ سر زمین عرب صرف تپتا ہوا صحرا ہی نہیں تھی بلکہ جہالت اور حیوانگی کا مظہر تھی۔ عرب کی رگوں میں سختی،اڑیل پن، مردانگی کے بے ڈھنگے مظاہرے اور طاقتور کی حکمرانی کمزور و مظلوم کی سسکیوں کی روانی تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ یہ لوگ اس معاشرے کے عکاس تھے جہاں صنفِ نازک کی قدر صرف ایک بچے پیدا کرنے والی ذات تک ہی محدود تھی۔ جہاں لڑکیوں کی بلوغت ان کے لئے خطرے کی علامت اور لڑکی کی پیدائش نامعلوم قبروں میں ایک اور قبر کے اضافے کا موجب ہوتا تھا۔ جہاں خاندان غلاموں، لونڈیوں، زناکاری اور بے تحاشا لڑکوں کے شوق میں ڈوبے رہتے تھے۔ عزت بس اس عورت تک محدود تھی جو صرف لڑکے پیدا کرتی تھی۔ لوگ قبائل میں بٹے ہوئے تھے اور قبائل جاہلانہ رسوم و رواج میں۔ رُسومات ایسی جو پتھر پر لکیر تھیں اور کسی انسانی جذبے یا ضرورت کی پرواہ نہ کرتی تھیں۔ صحرائے عرب کے لوگوں کی زندگی کا انحصار بھیڑ بکریوں، گھوڑوں، اونٹوں اور کھجوروں پر تھا۔ عرب مشرک لاتعداد فرقوں میں بٹے تھے اور لاتعداد خداؤں پر اعتقاد رکھتے ۔۔۔مزید پڑھیں

قرآنِ مجید میں بھی وسیلہ تلاش کرنے کا حکم ہے۔یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَوَجَاہِدُوۡافِیۡ سَبِیۡلِہٖ لَعَلَّکُمۡ   تُفۡلِحُوۡنَ   ترجمہ: اے ایمان والو !تقویٰ اختیار کرواور اللہ کی طرف وسیلہ پکڑو۔اس آیت مبارکہ میں ایمان لانے والوں کو دو باتوں کا حکم ہوا ہے اول تقویٰ اختیار کرنا دوم اللہ کی پہچان کے لیے وسیلہ پکڑنا، ڈھونڈنا یا تلاش کرنا۔و سیلہ کالغو ی معنی ”واضح راستہ اور ایسا ذریعہ ہے جو منزلِ مقصود تک پہنچادے اور اس حد تک معاون ومددگار ہو کہ حاجت مند کی حاجت باقی نہ رہے۔ اور اس وسیلہ کی بدولت۔۔۔مزید پڑھیں

مادی جسم کے اندر موجود باطنی انسان ایک جیتا جاگتا وجود ہے جو انسان کی توجہ کا طالب ہے۔ جس طرح مادی جسم کی تندرستی کے لیے صحیح غذا ضروری ہے اسی طرح باطنی وجود کی بھی غذا ہے جس سے وہ سکون محسوس کرتا ہے’ تندرست و توانا ہوتا اور قوت حاصل کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ  ط (الرعد۔28)  ترجمہ: بے شک ”ذکر اللہ” سے ہی قلوب کو اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے۔یعنی اللہ کے اسم کے ذکر سے انسانی قلب یا روح کو سکون حاصل ہوتا ہے کیونکہ یہی اس کی غذا اور قوت کا باعث ہے۔ جو انسان اس ذکر سے روگردانی کرتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

غوث الاعظم حضرت سیّدناشیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں:مَنْ لَّمۡ یَعۡرِفُہٗ  کَیۡفَ یَعۡبُدُہٗ۔ترجمہ: جو شخص اللہ کو پہچانتا ہی نہیں وہ اللہ کی عبادت کس طرح کر سکتا ہے۔”سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جو شخص اللہ کہنے میں اللہ کی ذات کی معرفت و حقیقت سے آگاہ و آشنا نہیں وہ اللہ کی حقیقی یاد سے غافل ہے۔ (سلطان الوھم)اللہ کو دیکھ کر’ پہچان کر عبادت کرنے میں جو خشوع و خضوع اور حضور قلب کی کیفیت حاصل ہوتی ہے وہ دیکھے بغیر حاصل ہونا ناممکن ہے۔..مزید پڑھیں

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سختی سے قائل ہیں آپؒ فرماتے ہیں:-پس جو شخص حیات النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا منکر ہے وہ کس طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا امتی ہو سکتا ہے وہ جو بھی ہے جھوٹا ہے وہ بے دین و منافق ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے ”جھوٹا آدمی میرا اُمتی نہیں ہے۔(کلید التوحید کلاں)جسے حیات النبی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )کا اعتبار نہیں وہ ہر دو جہان میں ذلیل و خوار ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وہ شخص مردہ سمجھتا ہے جس کا دِل مردہ ہوا ور اس کا سرمایہ ایمان و یقین شیطان نے لوٹ لیا ہو ۔..مزید پڑھیں

دِل میں کسی خاص چیز کے حصول کی خواہش اور ارادہ کا نام طلب ہے، اور حصولِ طلب کا جذبہ دِل میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ جو انسان اپنے دِل میں اللہ تعالیٰ کی پہچان ، دیدار اور معرفت کا ارادہ کر لیتا ہے تو اس کی خواہش کو” طلبِ مولیٰ ” اور اسے طالبِ مولیٰ یا ارادت مند کہتے ہیں، جسے عام طور پر سالک ، طالب یا مرید کے نام سے بھی موسوم کیا جا تا ہے۔دنیا میں تین قسم کے انسان یا انسانوں کے گروہ پائے جاتے ہیں: 1۔ طالبانِ دنیا، 2۔ طالبانِ عقبیٰ، 3۔ طالبانِ مولیٰ۔ان تینوں گروہوں کو اس حدیث قدسی میں بیان کیا گیا ہے:طَاْلِبُ الْدُّنْیَا مُخَنَّثٌ وَ طَاْلِبُ الْعُقْبٰی مُؤَنَّثٌ وَ طَاْلِبُ الْمُولٰی مُذَکِّرٌ    ترجمہ: دنیا کا طالب (مخنّث) ہیجڑہ ہے۔۔۔مزید پڑھیں

راہِ فقر میں اپنی ہستی ا ور خودی کو ختم کرکے اللہ پاک کی ذات میں فنا ہو جانا عارفین کا سب سے اعلیٰ اور آخری مقام ہے۔ جہاں پر وہ دوئی کی منزل سے بھی گزر جاتے ہیں۔ حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلممُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوتُوا (مرنے سے پہلے مر جاؤ) میں اسی مقام کی طرف اشارہ ہے۔ فقر کے اس انتہائی مر تبہ کومقامِ فنا فی ھُو، وحدت، فقر فنا فی اللہ بقاباللہ یا وصالِ الٰہی کہتے ہیں اور یہ مقامِ توحید بھی ہے۔ یہاں پہنچ کر انسان ”سراپا توحید ” ہو جاتا ہے۔انسانی عروج کا یہ سب سے اعلیٰ مقام ہے۔ عام اصطلاح میں اس مقام تک پہنچنے والے انسان کو ”انسانِ کامل ”کہا جاتا ہے ۔ لیکن فقرا اور عارفین نے اپنی تصنیفات میں اس مقام کو مختلف ناموں سے موسوم کیا ہے۔ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:اِذَ ا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہترجمہ:جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہیں اللہ ہوتا ہے۔..مزید پڑھیں

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:  ”کیا انہوں نے اپنے اندر فکر نہیں کیا کہ اﷲ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اور جو کچھ ان میں ہے، حق کے ساتھ اور مقررہ وقت تک’ بے شک اکثر لوگ لقائے الٰہی(دیدارِ الٰہی) کو جھٹلاتے ہیں”۔ (سورہ روم۔ آیت ۸)اس آیت مبارکہ میں ﷲ پاک نے دعوتِ غور و فکر دی ہے کہ اپنے اندر تفکّر اور غور و فکر کرو اور آسمانوں اور زمین میں اور ان کے اندر جو کچھ پیدا فرمایا گیا ہے یہ حق ہے اور مقررہ مدت تک کے لیے ہے۔ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے:تَفَکَّرُ  وۡ فِیۡ اٰیٰتِہِ وَلَا تَفَکَّرُ وۡ فِیۡ ذَاتِہِ ۔ ترجمہ: اللہ تعالیٰ کی آیات میں تفکّر کرو مگر اس کی ذات میں تفکّر مت کرو۔تَفَکَّرُ السَّاعَۃِ خیۡرٌ مِّنۡ عِبَادَۃِ الثَّقَلَیۡنِ ۔  ترجمہ: گھڑی بھر کا تفکّر دونوں جہان کی عبادت سے بہتر ہے۔..مزید پڑھیں

علمِ دعوت ilm e dawat حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات میں ایک اعلیٰ علم ہے۔ اس کے اسرارو رموز آپؒ نے کھول کر اپنی کتب میں بیان فرمائے ہیں۔ اس علم کو آپ کی کتب میں مختلف ناموں علمِ تکسیر’ کیمیا اکسیر اور تصرفِ تحقیق کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: اِذَا تَحَیَّرْتُم فِیْ الْاُمُوْرِ فَاسْتَعِنُوْا مِنَ اَھْلِ الْقُبُورِترجمہ: جب تم اپنے معاملات میں پریشان ہو جایا کرو تو اہلِ قبور سے مدد مانگ لیا کرو۔یہ ایک دینی و روحانی عمل ہے جس میں کسی عارف، فقیر یا ولی کے مزار پر ایک خاص ترتیب سے قرآنِ پاک پڑھا جاتا ہے’ جس سے اہلِ مزار کی روح حاضر ہوجاتی ہے اور صاحبِ دعوت کی روحانی معاملات میں مدد کرتی ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ علمِ دعوت اور کشف القبور ۔..مزید پڑھیں