Sultan-4rth-Hazrat-Abdur-Razaq

حضرت شیخ عبدالرزاق جیلانیؒ

حضرت شیخ تاج الدین ابو بکر سیدناحضرت شیخ عبدالرزاق جیلانی رحمتہ اللہ علیہ 

حضرت پیر دستگیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کے فرزندِ ارجمندسیّدناحضرت شیخ عبدالرزاق جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سلطان الفقر چہارم کے اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ حضرت پیر محبوبِ سبحانی قدس سرہٗ العزیز کے حسبی نسبی وارث اور ظاہری و باطنی طور پر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے نائب اور جانشین ہوئے۔ جو کچھ باطنی دولت اور روحانی نعمت اللہ تعالیٰ نے پیر دستگیر قدس سرہٗ العزیز کو عنایت فرمائی تھی وہ سب کی سب جوں کی توں آپ رضی اللہ عنہٗ نے اپنے فرزندِ سعادت مند کے سینے میں ڈال دی تھی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ گویا ثانی غوث محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ ہوئے۔
حضرت شیخ سیّدنا عبدالرزاق رحمتہ اللہ علیہ ۵۲۸ھ بمطابق ۱۱۳۳ء کو بغداد میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کی تعلیم و تربیت حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے ہی مبارک ہاتھوں میں ہوئی۔ اپنے والد گرامی سے تکمیلِ علم فرما کر دیگر علمائے عصر سے بھی بھرپور استفادہ فرمایا۔ علامہ ابنِ نجارؒ لکھتے ہیں ”آپ رحمتہ اللہ علیہ نے لڑکپن ہی سے اپنے والد محترم سے حدیث کی سماعت فرمائی تھی اور ان کے علاوہ بھی ایک بڑی جماعت سے احادیث کی سماعت فرمائی تھی اور اپنی ذاتی صلاحیتوں سے بھی بہت کچھ حاصل فرمایا”۔ زبردست محدث اور فقیہہ ہونے کی بنا پر ”تاج الدین” کے لقب سے ملقب ہوئے اور مفتئ وقت و امامِ زمانہ کے جلیل القدر منصب پر فائز ہوئے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ میں انتہا درجہ کی فقاہت، تواضع و انکساری تھی۔ صبر و شکر، اخلاقِ حسنہ اور عفت شعاری میں مشہور و معروف تھے۔ زہد و خاموشی آپ رحمتہ اللہ علیہ کا طرۂ امتیاز تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ عموماً لوگوں سے کنارہ کش رہتے اوراپنا زیادہ وقت تنہائی اور یادِ خدا میں گزارتے۔ البتہ درس و تدریس اور مواعظ کی خاطر طالبانِ مولیٰ سے ملاقات فرمایا کرتے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی مبارک ذات سے بہت سے لوگوں کو فیض پہنچا اور کثیر تعداد میں لوگ عالم فاضل اور عارفِ کامل کے مراتب تک پہنچے۔ حافظ عماد الدین ابنِ کثیر اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں ”حضرت پیر عبدالرزاق رحمتہ اللہ علیہ زاہد، ثقہ اور متقی تھے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ کی اولاد میں سے آپؒ سے بہتر کوئی شخص نہ تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مناصب و امارت کو قبول نہ کیا۔ آپؒ دنیا سے کم حصہ لینے والے اور آخرت کی طرف توجہ کرنے والے تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے بہت سے لوگوں سے سماع کیا اور آپؒ سے بھی اسی طرح (بہت سے لوگوں نے) سماع کیا”۔

”بہجتہ الاسرار” میں حضرت پیر عبدالرزاق رحمتہ اللہ علیہ کے عشقِ حقیقی اور اعلیٰ ترین مراتبِ قربِ الٰہی کے بیان میں حضرت ابوزرعہ ظاہر بن محمد المقدس الداریؒ کی ایک روایت مذکور ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک بار میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ کی مجلسِ وعظ میں حاضر تھا۔ وعظ کے دوران آپ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا ”میری مجلس میں ایسے لوگ بھی حاضر ہیں جو جبلِ قاف قدس کے پار رہتے ہیں اور جن کے قدم اس وقت ہوا میں ہیں۔ شدتِ شوقِ الٰہی سے ان کے جبّے اور ان کے سروں پر عشقِ الٰہی کے سلطانی تاج جل رہے ہیں”۔ اس وقت آپؓ کے بڑے فرزند پیر عبدالرزاق قدس سرہٗ العزیز اس مجلس میں حاضرتھے اور آپؓ کی کرسی وعظ کے بالکل پاس ہی آپؓ کے قدم مبارک کے قریب ہی بیٹھے تھے۔ جونہی حضرت عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ نے یہ کلام فرمایا حضرت پیر عبدالرزاق رحمتہ اللہ علیہ نے سر اُٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور ایک لحظہ یونہی آسمان کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ بے ہوش ہو گئے اور آپؒ کے جبّے اور دستار مبارک کو آگ لگ گئی۔ حضرت پیر دستگیر قدس سرہٗ العزیز نے کرسئ وعظ سے نیچے اتر کر اپنے ہاتھوں سے آگ بجھا کر فرمایا ”اے عبدالرزاق تم بھی ان میں سے ہی ہو”۔ ابو زرعہؒ فرماتے ہیں کہ مجلسِ وعظ ختم ہونے کے بعد میں نے پیر عبدالرزاق قدس سرہٗ سے اس معاملے کی حقیقت اور ان کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو آپؒ نے فرمایا کہ جب میں نے آسمان کی طرف دیکھا تو میں نے فضا میں چند روحانی اور نورانی لوگوں کو دیکھا کہ شوقِ الٰہی سے ان کے جُبّے اور تاج شعلہ بار ہیں اور وہ ہوا میں اِدھر اُدھر چکر لگاتے تھے اور رقص کرتے تھے اور درد و محبتِ الٰہی سے بادلوں کی طرح گرجتے تھے۔ ان کے دیکھنے سے میری بھی وہی حالت ہو گئی”۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ نے امانتِ فقر امانتِ الٰہیہ حضرت شیخ عبدالجبار جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے سپرد فرمائی جو آپ رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ اکبر اور پوتے تھے۔
آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تاریخ وصال میں اختلاف ہے۔ کسی نے شوال ۶۰۳ھ اور کسی نے ربیع الاول ۵۷۱ھ لکھی ہے۔ آپؒ کا مزار مبارک بغداد میں بابِ حرم کے قریب حضرت احمد بن حنبل کے مزار کے ساتھ تھا ۔ دریائے دجلہ کے بہاؤ اور کٹاؤ کے باعث یہ دونوں مزارات ناپید ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک کتاب بھی تصنیف فرمائی جو ”جلاء الخواطر” کے نام سے معروف ہے۔