Sultan-2nd-Hazrat-Khawaja-Hassan-Basri Ra

حضرت امام خواجہ حسن بصریؓ

حضرت امام خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ

اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے بعد فقرِ خاص الخاص کا مرتبہ سلطان الفقر دوم حضرت امام خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کو تفویض ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کو امانتِ فقر و خرقہ خلافت حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے منتقل ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کو حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے خلفاء میں جلیل القدر مرتبہ حاصل ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے فقرِ خاص الخاص کو امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک پہنچانے والا واسطہ اور وسیلہ ہیں۔
آپ رضی اللہ عنہٗ کا نام مبارک حسن، کنیت ابو محمد، ابو سعید، ابو نصر اور ابو علی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کے والد کا نام حسبِ روایت یسار تھا اور وہ حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہٗ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کی والدہ کا نام خیرہؓ تھا اور وہ اُم المومنین حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں۔ حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی پرورش حضرت امِ سلمہؓ ہی کے بابرکت ہاتھوں میں ہوئی اور انہوں نے آپ رضی اللہ عنہٗ کی رضاعت بھی فرمائی۔ حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی پیدائش 21ھ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ کے عہد میں مدینہ طیبہ میں ہوئی۔ جب آپ رضی اللہ عنہٗ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ کے حضور میں لائے گئے تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہٗ کو نہایت خوبرو دیکھ کر فرمایا کہ 6sultan-ul-faqr4 یعنی ”یہ حسین ہے اس لیے اس کا نام حسن رکھو”۔ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہٗ نے آپ رضی اللہ عنہٗ کے حق میں دعا فرمائی کہ ”اللہ تعالیٰ اس کو دین کے علم کا ماہر بنا اور لوگوں میں محبوب بنا” جو بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوئی اور آپ رضی اللہ عنہٗ کو علمِ دین اور فقر میں بلند مرتبہ عطا ہوا۔

حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی پرورش و تربیت اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے ان کی قربت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بالواسطہ صحبت کا فیض حاصل کیا اور انہی صحابہ کرامؓ خصوصاً حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہٗ اور ان کے علاوہ حضرت امام حسن مجتبیٰ اور حضرت محمد حنفیہ رضی اللہ عنہم سے فیضِ کامل پایا اور دین کا ظاہری و باطنی تمام علم حاصل کیا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کا اپنا قول ہے ”میں نے ایک سو تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زیارت کی ہے جن میں ستر بدری اصحابؓ تھے، لہٰذا تابعین میں حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کا مرتبہ سب سے بلند ہے۔

آپ رضی اللہ عنہٗ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بیعت سے مشرف ہوئے اور ان سے خرقہ فقر پایا۔ شاہِ ولایت امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے حضرت حسن بصریؓ کو وہ خرقۂ خاص مع کلاہِ چہار ترکی عنایت فرمایا جو انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عطا ہوا تھا اور ساتھ ہی اپنی نگاہِ فقر سے ظاہری و باطنی علومِ اسرارِ الٰہیہ عطا کر کے خلافتِ کبریٰ سے نوازااور ذکرِ کلمہ طیبہ بطریق نفی اثبات جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے حاصل ہوا تھا، وہ آپؓ کو سکھایا اور آپؓ کے ذریعہ سے وہ طریقہ تمام دنیا میں رائج ہوا۔ (سیر الاولیاء’ سیر الاقطاب)۔

حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ نے بہ اجازت و خلافتِ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اُن تمام سلاسلِ طریقت و تصوف کا نظام قائم کیا جو ساری دنیا میں وصال و معرفتِ الٰہی کے لیے آج تک رائج رہے ہیں۔ سلسلۂ قادریہ ہو یا سہروردیہ، چشتیہ ہو یا نظامیہ، رفاعیہ ہو یا شازلیہ، المغربیہ ہو یا کلابیہ، تمام سلاسل بالآخر جا کر حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کے ہی توسط سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ملتے ہیں، سوائے سلسلہ نقشبندیہ کے جو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہٗ کے توسط سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ سے ملتا ہے۔

باوجود اس حقیقت کے کہ تمام سلاسلِ طریقت مکمل تحقیق و اعتقاد کے ساتھ اپنے اپنے شجرۂ مشائخ کو حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کے ذریعے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ ملاتے ہیں، محدثین کے درمیان حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ملاقات، خلافت اور سماعِ حدیث پر اختلاف پایا جاتا ہے اور اس کی وجہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ انہیں حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی بیان کردہ ایسی کوئی حدیث دستیاب نہیں ہو سکی جسے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ سے سن کر اور ان کا نام لے کر روایت کیا ہو۔ اگر محدثین کی اس بات کو درست مان لیا جائے کہ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نہ ملاقات ہوئی، نہ ان سے خرقہ خلافت پایا تو تمام سلاسلِ طریقت کا نظام زمین بوس ہو جاتا ہے کہ اگر حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کی کڑی بیچ میں سے نکال دی جائے تو کس طرح تمام سلاسل حضرت علی رضی اللہ عنہٗ اور پھر ان سے آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام تک پہنچے؟
قرآئن و شواہد کے لحاظ سے بھی یہ بات قابلِ قبول نہیں کہ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نہ ملے ہوں کیونکہ آپ رضی اللہ عنہٗ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہٗ کے دورِ خلافت میں ۲۱ھ میں پیدا ہوئے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دورِ خلافت ۳۷ھ میں اس وقت بصرہ منتقل ہوئے جب حضرت علیؓ کوفہ منتقل ہو گئے۔ یعنی یہ دونوں متبرک ہستیاں تقریباً سولہ سال ایک ہی مقام مدینہ منورہ میں اکٹھی رہیں، حضرت حسن بصریؓ اسی علاقے میں انہی لوگوں کے درمیان سنِ بلوغت کو پہنچے، انہی صحابہؓ کے ساتھ مسجدِ نبوی میں نماز پڑھتے رہے، حضرت علیؓ کے دورِ خلافت میں دو سال مدینہ میں ہی رہے بعد میں بصرہ منتقل ہو گئے، انکی امامت میں نماز پڑھتے رہے، ان سے خطبۂ جمعہ سماعت کرتے رہے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ ملاقات نہ ہوئی ہو اور احادیث کی سماعت نہ کی ہو۔ حافظ مزیؒ تہذیب الکمال میں روایت کرتے ہیں ”جس دن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ کی شہادت ہوئی اس وقت حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ وہاں موجود تھے اور ان کی عمر چودہ سال تھی”۔

قرآئن و شواہد سے ملاقات ثابت ہونے کے باوجود محدثین یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر ملاقات ہوئی اور ان سے حدیث بھی سنی تو ان کا نام لے کر روایت کیوں نہ کی۔ اس کے جواب میں امام نسائی، امام جلال الدین سیوطیؒ اور امام مزیؒ سمیت کئی اکابر آئمہ نے نہ صرف تحقیق کر کے ان چند احادیث کو تلاش کیا جن کو حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ نے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ سے روایت کیا بلکہ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کے اس قول کو بھی تلاش کیا جس میں اس کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کا نام لیے بغیر حدیث کو براہِ راست حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کیوں روایت کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا زمانہ نہیں پایا۔ چنانچہ امام مزیؒ تہذیب الکمال میں لکھتے ہیں ”یونس بن عبید اللہ نے کہا کہ میں نے حسن بصریؓ سے پوچھا ”ابو سعید آپ روایت بیان کرتے ہوئے یہ کیوں فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا”حالانکہ یقیناًآپ نے ان کا عہد نہیں پایا تو انہوں نے جواب دیا ”اے بھتیجے تم نے مجھ سے وہ بات پوچھی ہے جو تم سے پہلے مجھ سے کسی اور نے نہیں پوچھی۔ اگر میرے نزدیک تمہاری خاص حیثیت نہ ہوتی تو میں تمہیں بیان نہ کرتا۔ میں جس زمانے میں ہوں وہ تمہارے سامنے ہے (وہ حجاج بن یوسف کا دور تھا)۔ ہر وہ روایت جس میں تم نے مجھ سے سنا کہ میں نے کہا ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا” وہ دراصل حضرت علیؓ بن ابی طالبؓ سے مروی ہے، مگر یہ کہ میں ایسے زمانے میں ہوں جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کا تذکرہ مجبوراً نہیں کر سکتا”۔ ( تہذیب الکمال جلد ۴ صفحہ ۱۲۴)۔
حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے خلافت سنبھالتے ہی ایک طرف خارجی ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو دوسری طرف بنو امیہ نے ان کے خلاف طوفان کھڑا کر دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کی فراست یہ دیکھ رہی تھی کہ مستقبل میں ان کا نام لینے والے اور ان کا ساتھ دینے والے ہر شخص کو چن چن کر ختم کر دیا جائے گا جبکہ تقدیر حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ سے علمِ معرفت کی وراثتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک منتقل کرنے کا عظیم کام لینے والی تھی اس لیے اپنے امیر اپنے امام حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کے ایما پر ہی حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ نے ان کا نام لینے سے اس قدر احتیاط برتی ہوگی تاکہ وہ خاموشی، رازداری اور سکون سے اپنے ذمہ واجب الادا فرض سے سبکدوش ہو جائیں اور دشمنانِ اسلام میں سے کسی کو خبر نہ ہو۔ وہ یہی سمجھتے رہیں کہ حضرت حسن بصریؓ کا حضرت علیؓ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ محدثین کو ایسی احادیث دستیاب نہ ہونا جن کو حضرت حسن بصریؓ نے حضرت علیؓ سے روایت کیا اس بات کا ہرگز ثبوت نہیں کہ آپؓ نے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ سے کوئی حدیث روایت ہی نہ کی بلکہ یہ محدثین کی اپنی تحقیق کی کمی اور کمزوری ہے کیونکہ جن محدثین نے خلوصِ نیت سے تحقیق کی انہوں نے ایسی احادیث کو پایا بھی۔
امام احمد بن حنبلؒ اپنی مسند میں ایسی ایک حدیث کا تذکرہ فرماتے ہیں کہ ”ہشیم نے ہم سے بیان کیا کہ یوسف نے حضرت حسن بصریؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، لڑکے سے جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے، سوتے ہوئے سے جب تک وہ نیند سے بیدار نہ ہو، دیوانہ سے جب تک اس کا جنون جاتا نہ رہے”۔ اسی حدیث کو ترمذیؒ نے بھی روایت کیا ہے اور نسائیؒ ، حاکمؒ نے اس کے حسن ہونے کو ثابت کیا ہے۔

اسی طرح امام نسائیؒ روایت کرتے ہیں کہ ہمیں علی بن حجر نے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا ان سے حمید نے بیان کیا، وہ حسن بصریؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا ”یقیناًجب اللہ تعالیٰ توفیق دے تو وسعت کا مظاہرہ کرو اور ایک صاع گندم وغیرہ کا صدقہ ادا کیا کرو”۔

امام سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے خواجہ حسن بصریؓ کا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے خرقہ حاصل کرنا ثابت کیا ہے اور اس مسئلہ میں ایک مستقل رسالہ لکھا ہے جس کا نام ”اتحاف الفرقہ بوصل الخرقہ” ہے۔ اس کے علاوہ سلف سے لے کر حلف تک تمام مشائخ و اولیاء کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خواجہ حسن بصریؓ کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے بیعت و خلافت حاصل ہے۔
حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے سماعِ حدیث اور ملاقات کے اختلافی مسئلہ پر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور حضرت شاہ فخر جہاں فخر الدین دہلویؒ کے درمیان مناظرہ ہوا جو تین دن جاری رہا۔ حضرت محدث دہلویؒ ملاقات کا انکار کرتے رہے اور فخر الدین دہلویؒ ملاقات کے حق میں دلائل دیتے رہے۔ اس سلسلے میں حضرت فخر الدین دہلویؒ نے ۳۵ ایسی احادیث کو جمع کیا جو حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ نے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ سے روایت فرمائیں اور ان احادیث کو ”فخر الحسن” کے عنوان سے ایک مخطوطہ میں تحریر فرمایا۔ بوجہ اختصار ان تمام احادیث اور ان کے حوالہ جات کو تو تحریر نہیں کیا جا سکتا البتہ چند کا حوالہ ذیل میں دیا جا رہا ہے:۔

ابنِ ماجہ، السنن، کتاب الجہاد، باب فضل النفقہ فی سبیل اللہ تعالیٰ جلد ۲ صفحہ ۹۲۲ حدیث نمبر ۲۷۶۱ ‘۔

احمد بن حنبل، المسند، جلد ۱ صفحہ ۱۴۰ حدیث نمبر ۱۱۸۳

امام نسائی، کتاب السنن الکبریٰ، کتاب الصیام، جلد ۲ صفحہ ۲۲۲ حدیث نمبر ۳۱۶۱

حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ تفسیر و حدیث میں امام تسلیم کیے جاتے ہیں۔ علمِ ظاہر و باطن کے علاوہ آپ رضی اللہ عنہٗ زہد و ریاضت میں بھی کامل تھے۔ سات سات روز بعد روزہ افطار فرماتے اور شب و روز یادِ الٰہی میں مصروف رہتے۔ منقول ہے کہ ستر برس تک سوائے عذرِ شرعی کے آپ رضی اللہ عنہٗ کا وضو نہ ٹوٹا اور آپؓ کبھی بے وضو نہ رہے۔ یہاں تک کہ مرتبۂ کمال تک پہنچے۔ آپؓ خشیتِ الٰہی کے سبب اس قدر گریہ کرتے کہ آپؓ کی آنکھیں کبھی خشک نہ دیکھی گئیں، یہاں تک کہ روتے روتے آنکھوں میں گڑھے پڑ گئے۔ حضرت امام حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کا معمول تھا کہ ہفتہ میں ایک بار وعظ فرمانے کے علاوہ زیادہ وقت تنہائی اور گوشہ نشینی میں گزارتے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کا وعظ اکثر دل کے خطروں اور اعمال کی خرابیوں اور نفس کے وسوسوں و خواہشات سے متعلق ہوا کرتا تھا۔ آپؓ کے وعظ میں لوگوں کی کثیر تعداد شریک ہوتی جن میں اپنے وقت کے تمام علماء و اولیاء شامل ہوتے۔ حضرت رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہا بھی آپؓ کے مواعظ سے اکتسابِ فیض کرتیں۔ جب آپ رضی اللہ عنہٗ کا ذکر حضرت امام باقرعلیہ السلام کے سامنے ہوتا تو وہ فرماتے ”حسنؓ کا کلام انبیاء علیہم السلام کے کلام کے مشابہ ہے”۔ حضرت بلال بن ابی بردہ رضی اللہ عنہٗ فرمایا کرتے تھے ”میں نے حسن بصری رضی اللہ عنہٗ سے زیادہ کسی کو صحابہ کرامؓ سے مشابہ نہیں پایا”۔
ایک شخص نے کسی بزرگ سے سوال کیا کہ حسن بصریؓ کو ہم لوگوں پر کس وجہ سے بزرگی اور سرداری ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ”تمام مخلوق اس کے علم کی حاجت مند ہے اور اس کو سوائے خالق کے کسی کی حاجت نہیں۔ دین میں سب اس کے محتاج ہیں، اس سبب سے وہ سب کا سردار ہے”۔ (ازالۃ الخفا۔جلد سوم)۔

حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہٗ کے بہت سے خلفاء ہوئے ہیں جن میں شیخ عبدالواحد بن زیدؒ اور حضرت شیخ حبیب عجمی ؒ زیادہ مشہور ہیں اور ان کے فیضِ تربیت سے تصوف کے چودہ بڑے خانوادے (سلاسل) وجود میں آئے۔ حضرت شیخ عبدالواحد بن زیدؒ سے پانچ خانوادے یعنی سلسلہ زیدیہ، سلسلہ عیاضیہ، سلسلہ ادھمیہ، سلسلہ ہبیریہ، سلسلہ چشتیہ اور حضرت شیخ حبیب عجمیؒ سے نو خانوادے یعنی سلسلہ عجمیہ، سلسلہ طیفوریہ، سلسلہ کرخیہ، سلسلہ سقطیہ، سلسلہ جنیدیہ، سلسلہ گاذرونیہ، سلسلہ طوسیہ، سلسلہ سہروردیہ، سلسلہ فردوسیہ جاری ہوئے۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہٗ نے امانتِ فقر حضرت شیخ حبیب عجمی رحمتہ اللہ علیہ کو منتقل فرمائی۔ آپؓ کا وصال 4- محرم الحرام ( 8-اپریل 729ء) بروز جمعتہ المبارک کو 111ھ ہوا۔ آپؓ کا مزار پُر انوار بصرہ (عراق) سے نو میل مغرب کی طرف مقام زبیر پر واقع ہے۔