Mohammad Asghar Ali

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ

سلطان الاولیاء حضرت سخی سلطان محمد عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کے بعد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ مسندِ تلقین و ارشاد پر فائز ہوئے۔

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی (Mohammad Asghar Ali) رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت 14اگست 1947ء (27رمضان المبارک1366ھ) بروز جمعتہ المبارک بوقتِ سحر قصبہ سمندری گڑھ مہاراجہ ضلع جھنگ پاکستان میں ہوئی۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد پاک میں سے ہیں اور آٹھویں پشت پر آپ رحمتہ اللہ علیہ کا شجرہ نسب حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ سے جا ملتا ہے۔ حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ امانتِ فقر کے حامل سلسلہ سروری قادری کے انتیسویں شیخِ کامل کے مرتبہ پر فائز ہیں۔ یوں آپ رحمتہ اللہ علیہ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی(Mohammad Asghar Ali) رحمتہ اللہ علیہ کے والد بھی ہیں اور مرشد بھی۔ سلطان الفقر ششم سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے پرائمری تک گڑھ مہاراجہ میں تعلیم حاصل کی پھر جھنگ کے اسلامیہ سکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا اور پھر نوشہرہ وادی سون ضلع خوشاب سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کو ازل سے ہی سلطان الفقر کا مرتبہ حاصل ہے اس لیے بچپن سے ہی آپ رحمتہ اللہ علیہ کا چہرہ مبارک نورِ حق سے منور تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد مرشد آپ رحمتہ اللہ علیہ کو ”چن” کہہ کر مخاطب کرتے اور کسی بھی لمحہ خود سے جدا نہ ہونے دیتے اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کی باطنی روحانی تربیت پر خصوصی توجہ دیتے۔ 1981ء میں سلطان عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے وصال سے قبل امانتِ فقر سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کومنتقل فرمائی اور آپ رحمتہ اللہ علیہ سلسلہ سروری قادری کے تیسویں شیخِ کامل کے مرتبہ پرفائز ہوئے۔ مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی نگاہِ کامل سے ہزاروں طالبانِ مولیٰ کو ورد و وظائف کی مشقت میں ڈالے بغیر محض اپنی روحانی قوت اور تصرف سے فقر کے اعلیٰ ترین مقامات تک پہنچا دیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے موجودہ زمانہ کے تقاضوں کے مطابق راہِ فقر میں انقلابی اقدامات کیے اور طالبانِ مولیٰ کے لیے اس راہ کو آسان ترین بنا دیا تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو حق کی اس راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ سے پہلے فقر کی نعمت صرف خاص الخاص منتخب شدہ لوگوں کو عطا کی جاتی تھی اور اسمِ اعظم یعنی اسمِ اللہ ذات کو ظاہر کرنا شریعت کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔(تفسیر روح البیان۔ جلد اول)

لیکن آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے خاص روحانی مقام کی بدولت اس کو اُلٹ دیا اور اسمِ اعظم کو چھپانا حرام اور ظاہر کرنا لازم قرار دے دیا۔ اب ہر خاص و عام کو اسمِ اللہ ذات   کی دعوت دی جا رہی ہے کیونکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ اپنی اعلیٰ روحانی قوتوں کے باعث ہر خاص و عام کو بلند ترین روحانی مقام پر پہنچا کر اسمِ اعظم کی تجلیات برداشت کرنے کے لائق بنانے کی اہلیت رکھتے تھے۔

جیسا کہ قانونِ فطرت ہے کہ کائنات میں ہر چیز کا ایک توازن قائم رکھا جائے، اسی قانون کے تحت جیسے جیسے دنیا میں شیطانیت بڑھتی جا رہی ہے اسی طرح روحانیت بھی اپنے عروج کی طرف گامزن ہے۔ حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی روحانی قوت اس کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔
تعلیماتِ فقر و روحانیت کو عام کرنے کے لیے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس راہ پر گامزن کرنے کے لیے آپ رحمتہ اللہ علیہ نے ظاہری طور پر بھی بہت سے اقدامات کیے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے1989ء میں اصلاحی جماعت قائم کی۔ اصلاحی جماعت کے مبلغین کی تربیت تعلیم و تلقین کے ذریعے خود فرماتے اور نگاہِ اکمل سے ان کے وجود میں اسمِ اللہ ذات کا نور بھر دیتے اور تمام مبلغین اس نور کی روشنی میں خلقِ خدا کی رہنمائی فرماتے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے کئی لاکھ انسانوں کو اسمِ اللہ ذات عطا فرمایا او ربھولے بھٹکے راہی اپنی نگاہِ کامل سے صراطِ مستقیم کے مبلغ بنا دئیے۔ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں اسمِ اللہ ذات کا فیض جاری و ساری فرما دیا جو قیامت تک جاری رہے گا(انشاء اللہ)
حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے سلطان محمد نجیب الرحمن کی سربراہی میں 1998ء میں شعبہ نشرواشاعت(مکتبہ العارفین) قائم کیا جس کے تحت سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی کتب کو بہترین و خوبصورت ترجمہ اور طباعت کے ساتھ منظرِ عام پر لایا گیا۔ اپریل 2000ء میں سلطان محمد نجیب الرحمن کی ادارت میں ایک ماہنامہ ”مرآۃ العارفین” کا آغاز کیا گیا جو حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیماتِ فقر پر مبنی تھا۔

سلسلہ سروری قادری کی امامت ظاہری طور پر سنبھالتے ہی آپ رحمتہ اللہ علیہ نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ علماء اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں صرف ظاہر پر توجہ دے رہے ہیں باطن کی طرف ان کی نظر نہیں ہے اسی لیے اسلام کی عبادات روح سے خالی ہو چکی ہیں۔ ظاہر پر توجہ کی شدت کی وجہ سے مسلمان مختلف فرقوں اور مسلکوں میں تقسیم در تقسیم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اسلام کی حقیقی تعلیمات فرقہ پرستی کے اندھیروں میں گم ہوتی جا رہی ہیں لہٰذا ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو ظاہر کے ساتھ ساتھ باطن میں بھی لوگوں کی تربیت کرے اور لوگوں کو روحانی پاکیزگی کی طرف بلائے۔ جب انسان کا باطن روحانی بیماریوں مثلاً حسد، تکبر، لالچ، ہوس اور کینہ وغیرہ سے پاک ہو جاتا ہے تو اس کے ظاہری اعمال خودبخود درست ہو جاتے ہیں اور جب ایک معاشرے کے تمام افراد ظاہری و باطنی طور پر پاکیزہ ہو جاتے ہیں تو معاشرہ دینی و دنیاوی فلاح کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ اسی اصول کے تحت آج سے چودہ سو سال پہلے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عرب کے جاہل معاشرے کی اصلاح کر کے ایک فلاحی ریاست قائم کی۔ لیکن یہ ظاہری و باطنی فلاح اور پاکیزگی صرف ان کامل اولیاء اللہ کے ذریعے ممکن ہے جو ایسی روحانی قوت اورتصرف کے حامل ہوں کہ دوسروں کی روحوں کو بیماریوں سے پاک کر سکیں۔ سلسلہ سروری قادری کے مشائخ کو امتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اصلاح کے لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے ایسی قوت اور اختیار حاصل ہوتا ہے۔
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی(Mohammad Asghar Ali) رحمتہ اللہ علیہ اپنے والد مرشد حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے 1981ء میں وصال کے بعد سے 2003ء میں اپنے وصال تک تئیس سال مسندِ تلقین و ارشاد پر فائز رہے۔ اسی دوران آپ رحمتہ اللہ علیہ نے طالبانِ مولیٰ کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ اس خاص الخاص طالبِ مولیٰ کی تلاش بھی جاری رکھی جو اس لائق ہو کہ اسے مستقبل میں طالبانِ مولیٰ کی رہنمائی کے لیے خزانہ فقر منتقل کیا جا سکے۔ 1998ء میں سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی صورت میں آپ رحمتہ اللہ علیہ کو وہ طالبِ مولیٰ مل گیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے تقریباً تین سال سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو ظاہری و باطنی آزمائشوں کے ذریعے پرکھ لیا اور پھر سن 2001ء میں سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اور چند دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ حج کے لیے تشریف لے گئے اور مدینہ منورہ پہنچنے پر انہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں انتخاب کے لیے پیش کر دیا۔ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے بھی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو فقر کی امانت سونپنے کے لیے چن لیا گیا۔ چنانچہ سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے خزانہ فقر سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے سپرد کرنے کے بعد تقریباً دو سال ان کی ظاہری و باطنی تربیت فرمائی۔

26دسمبر 2003ء (2ذیقعد1424ھ) کو جمعتہ المبارک کے دِن فقر کا یہ آفتاب کسی اور صورت میں جلوہ گر ہو کر اس دنیا سے ظاہری پردہ فرما گیا۔ سلطان محمد اصغر علی(Mohammad Asghar Ali) رحمتہ اللہ علیہ کو حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک پر نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد ان کے والد مرشد سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے مزار میں ان کے دائیں پہلو میں دفن کیا گیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا عرس مبارک ہر سال ذیقعد کے پہلے جمعتہ المبارک کو منعقد ہوتا ہے۔