tasawar-ism-allah-zaat

tasawar-ism-allah-zaat-تصورِ اسمِ اللہ ذات

تصورِ اسمِ اللہ ذات

سانسوں کے ساتھ اسمِ اللہ کے ذکر کے ساتھ ساتھ تصورِ اسمِ اللہ ذات بھی اللہ کی پہچان و معرفت حاصل کرنے کے لیے بہت ضروری ہے ۔کیونکہ کسی بھی چیز کی پہچان کا سب سے عمدہ اور اعلیٰ ذریعہ آنکھ اور بصارت ہے۔دیگر حواس اشیاء کی شناخت کے ناقص آلے ہیں۔جبکہ ”دیکھنے ” سے کسی بھی چیز کی پوری پوری پہچان ہو جایا کرتی ہے اس لیے آنکھ سے کیا جانے والا تصور اور پاس انفاس(سانس کے ذریعے) سے کیا جانے والا ذکر سب سے اعلیٰ اور افضل ہے۔ صرف یہی ذریعۂ معرفت اور وسیلۂ دیدارِ پروردِگار ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ذکر کے ساتھ ساتھ تصورِ اسمِ اللہ tasawar-ism-allah-zaat  کا حکم بھی دیتا ہے:

وَ اذۡکُرِ اسۡمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلۡ  اِلَیۡہِ تَبۡتِیۡلًا  ؕ (مزمل۔8)

ترجمہ: (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) اپنے رب کے نام (اسمِ اللہ) کا ذکر کرو اورسب سے ٹوٹ کر اس ہی کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔

آیت کے پہلے حصے میں ذکر کا حکم ہے اور دوسرے حصے میں تصور کا۔ ”سب سے ٹوٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوجاؤ” میں ”متوجہ” ہونے سے مراد قلب و ذہن سے ہر شے کا خیال نکال کر صرف اللہ کی ذات کا تصور آنکھوں کے ذریعے دِل میں بسانا ہے۔تصور سے اسمِ  اللہ ذات کو اپنے دِل پر نقش کرنے سے یہ انسان کی باطنی شخصیت پر اثر انداز ہوکر اسے زندہ اور بیدار کرتا ہے اور اس طرح انسان کی ”باطنی آنکھ” کھل جاتی ہے جس سے اسے نورِ بصیرت حاصل ہو جاتا ہے جس سے اللہ کی پہچان اور معرفت حاصل ہوتی ہے۔

ذکر اور تصور کا باہمی رشتہ ایک تانے بانے کی مانند ہے اور ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا ذہن ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا ہے۔ کسی نہ کسی چیز کے خیال میں محو رہتا ہے۔ ایک لمحہ بھی خالی نہیں رہ سکتا ۔ یہ ذکر کی قسم ہے اور جن چیزوں کے متعلق ہمارا دِل سوچتا ہے تو ان کی شکلیں ہمارے سامنے آجاتی ہیں ۔ اگر بیوی بچوں کے متعلق سوچتا ہے تو وہ آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں اور گھر کے بارے میں سوچتا ہے تو گھر ہمارے سامنے آجاتا ہے اسے ”تصور” کہتے ہیں۔ ذکر و تصور کا یہ سلسلہ مسلسل اور لگا تار جاری رہتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دنیا کے لوگوں اور اشیاء سے ہماری محبت اور رشتہ مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ یہی تعلق اور لگاؤ ذکر اور تصور ہے۔ صوفیاء کرامؒ ذکر اور تصور کے اس دنیاوی رُخ کو رُوحانی رُخ کی طرف موڑ کر واصل باللہ ہونے کا طریقہ ذکر اور تصورِ اسمِ اللہ ذات کی صورت میں بتاتے ہیں۔ جس طرح لوہے کو لو ہا کاٹتا ہے اور پانی کی بہتات سے پَژ مُردہ فصل پانی ہی سے ہری بھری ہوجاتی ہے اسی طرح ذکر کو ذکر اور تصور کو تصور کاٹتا ہے۔ ضرورت صرف ذِکر اور تصور کے رُخ کو بدلنے کی ہے’ اگر ہم دنیا اور اس کی فانی اشیاء اور اشکال کی بجائے اسمِ اللہ ذات کا ذِکر اور تصور کریں تو ہمارا اس دنیا اور اس کی اشیاء سے لگاؤ اور محبت ٹوٹ کر اللہ سے عشق و محبت پیدا ہو جاتا ہے اور انسان کے قلب میں پوشیدہ امانتِ حق تعالیٰ ظاہر ہوجاتی ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ مشق تصورِ اسمِ  اللہ ذات کے انسانی قلب و باطن پر اثرات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

مشق تصورِ اسم  اللہ ذات tasawar-ism-allah-zaat  سے دِل اس طرح زندہ ہوجاتا ہے جس طرح کہ بارانِ رحمت سے خشک گھاس اور خشک زمین زندہ ہو جاتی ہے۔(شمس العارفین)

تصورِ اسم  اللہ ذات  tasawar-ism-allah-zaat کے ذریعے طالبِ اللہ لاھوت لامکان میں ساکن ہوکر مشاہدۂ اَنوار دیدارِ ذات کھلی آنکھوں سے کرتا ہے اور ہر دو جہان کی آرزؤوں سے بیزار ہو جاتا ہے ۔عین دیکھتا ہے عین سنتا ہے اور عین پاتا ہے۔(نور الہدیٰ کلاں)

ہر قفل کی ایک کنجی ہوتی ہے اور انسان کے (باطنی) وجود کی کنجی تصورِ اسم اللہ ذات ہے۔ جو شخص وجود کا قفل کھول کر قلبِ سلیم کا خزانہ حاصل کرنا چاہے تو تصورِ اسم اللہ ذات سے ایسا کرے۔(نور الہدیٰ کلاں)

وہ کون سا علم ہے کہ جس کے پڑھنے سے طالب ایک ہی دم میں بغیر کسی ریاضت و مجاہدہ کے اپنے نفس سے جُدا ہو جائے۔ وہ علم ”تصورِ اسمِ  اللہ ذات ” ہے کہ جس سے طالبِ مولیٰ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہو کر نفس کی حقیقت جان لیتا ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں)

جملہ قرآنی علوم’ نص و حدیث اور تمام علوم جو لوحِ محفوظ اور عرش و کرسی پر لکھے ہوئے ہیں، ماہ سے ماہی تک ساری مملکتِ خداوندی کے غیبی علوم اور اللہ تعالیٰ کے سارے بھید اور توریت، زبور، انجیل و قرآن کے جتنے علوم ہیں اور تمام حکم احکام اور ظاہری و باطنی نفسی، قلبی، روحی، سِرّی امور اور جو حکمتیں تمام عالمِ مخلوقات کے درمیان جاری ہیں سب کے سب اسی ”تصورِ اسمِ  اللہ ذات” کی طے میں موجود ہیں۔ (نورالہدیٰ)

کُل سلک سلوک اور باطن کا صحیح راستہ جس میں کسی قسم کی غلطی، سلب اور رجعت کا خطرہ نہ ہو یہ ہے کہ طالبِ مولیٰ ایسے مرتبے کو پہنچ جائے کہ جس وقت چاہے اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہو اور جس وقت چاہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں حاضر ہو اور جس وقت چاہے جملہ انبیاء و اولیاء سے ملاقات کرے اور ان کا ہم مجلس ہو جائے۔ یہ توفیق صرف تصورِ اسمِ اللہ ذات سے حاصل ہوتی ہے۔ (نورالہدیٰ کلاں)

”تصورِ اسم اللہ  ذات tasawar-ism-allah-zaat  ” سے دل میں اَنوارِ دیدار پیدا ہوتے ہیں۔ جب کہ ذکر فکر، وِرد ووظائف سے رجوعاتِ خلق پیدا ہوتی ہے۔ جس سے نفس موٹا اور مغرور ہو جاتا ہے۔ (نورالہدیٰ کلاں)

حشر کے روز آدمیوں کی نیکیوں اور بَدیوں کا حساب ہوگا تو جس شخص کے دل پر اسمِ  اللہ ذات نقش ہوگا یا جس شخص نے صرف ایک ہی مرتبہ صدقِ دل سے اسمِ  اللہ ذات کا تصور کیا ہوگا، اگر اس کے گناہ آسمان و زمین کے برابر بھی ہوں گے تو ایک طرف کے پلڑہ میں اس کے گناہ رکھ دئیے جائیں گے اور دوسری طرف کے پلڑہ میں اسمِ  اللہ ذات رکھ دیا جائے گا تو اسمِ اللہ ذات والا پلڑہ بھاری ہوگا اور فرشتے تعجب سے اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے کہ ”یا اللہ! اس نے ایسی کونسی نیکی کی ہے جس کے بدلے میں اس کا نیکیوں والا پلڑہ بھاری ہے؟” اِرشاد ہوگا کہ ”یہ شخص ہمیشہ میری طلب میں رہتا تھا اور میرے ذاتی نام یعنی اسمِ اللہ ذات میں مشغول رہتا تھا۔ اے فرشتو! تم اہلِ حجاب ہو اور اس کے شغل کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہو۔ یہ بندہ میرا طالب ہے یہ میرے ساتھ ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں۔ تم اس راز سے بیگانہ ہو”۔ اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس۔ (عین الفقر)

اسمِ  اللہ ذات کی شان یہ ہے کہ اگر کوئی شخص تمام عمر روزہ، نماز، حج، زکوٰۃ، مال، تلاوتِ قرآنِ مجید اور ہر قسم کی دیگر عبادات کرتا رہے یا عالم بن کر اہلِ فضیلت بن گیا ہو لیکن اسمِ  اللہ ذات اور اسمِ  محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیگانہ رہا اور ان دونوں اسماء پاک سے شغل نہیں کیا تو اس کی ساری عمر کی عبادت برباد و ضائع ہو گئی۔ (عین الفقر)

فقہ کا ایک مسئلہ سیکھنا ایک سال کی بے ریا عبادت سے افضل اور تصورِ اسمِ  اللہ ذات میں ایک سانس لینا ایک ہزار مسائلِ فقہ سیکھنے سے افضل ہے۔(عین الفقر)

ایسا اس لیے ہے کہ تصورِ اسمِ  اللہ ذات سے نفسِ امّارہ قتل ہو جاتا ہے اور دل زندہ ہو جاتا ہے جس سے حضور قلب (دل کی توجہ ) حاصل ہوتی ہے۔ جسے حضور قلب حاصل ہو اس کی ہر عبادت مقبول ہوتی ہے اور جسے حضور قلب حاصل نہ ہو اس کی ہر عبادت ریا کا درجہ رکھتی ہے۔

حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کا فرمان ہے کہ :

لَا صَلٰوۃَاِلَّا بِحُضُوۡرِ الۡقَلۡبِ

ترجمہ: ”حضور دل کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔”

جس دل کے اندر اسمِ  اللہ ذات tasawar-ism-allah-zaat  کانوری نقش قائم ہو جائے وہ دِل قلبِ سلیم کہلاتا ہے اور قلبِ سلیم ہی قیامت کے روز کام آئے گا۔ فرمانِ الٰہی ہے کہ :

یَوۡمَ لَا  یَنۡفَعُ  مَالٌ  وَّ  لَا  بَنُوۡنَ ﴿ۙ۸۸﴾اِلَّا  مَنۡ  اَتَی اللّٰہَ  بِقَلۡبٍ سَلِیۡمٍ ﴿ؕ۸۹﴾  (الشعرا۔ 88-89)

ترجمہ: ”قیامت کا دن ایسا دن ہے کہ اس دن نہ مال نفع دے گا اور نہ اولاد کام آئے گی بلکہ وہاں کامیابی اس کی ہوگی جس نے قلبِ سلیم پیش کیا۔”

حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

جب فقیر فنا فی اللہ بقا باللہ تصورِ اسمِ اللہ ذات میں مشغول ہوتا ہے تو آسمان کہتا ہے کہ کاش میں زمین ہوتا اور یہ بندہ مجھ پر بیٹھ کر تصورِ اسمِ اللہ ذات کرتا او ر زمین کہتی ہے ”الحمد للّٰہ” کہ میں ذکراللہ سے حلاوت پا رہی ہوں۔ جب زندہ دل ذاکر تصورِ اسمِ اللہ ذات کرتا ہے تو اس کا ہر رگ و ریشہ گوشت پوست، مغز و قلب و رُوح و سِرّ غرضیکہ تمام اعضائے جسم ذکرِ اللہ سے گویا ہو جاتے ہیں اور ربوبیتِ حق تعالیٰ سے جواب آتا ہے اللہ (میرے بندے میں حاضر ہوں) یہ سُن کر فرشتے رشک سے کہتے ہیں ”ہم تمام عمر تسبیح و سجود و رکوع میں گزار رہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہم سے کبھی بھی اللہ نہیں فرمایا۔ کاش کہ ہم بھی بندے ہوتے” اے بندے خود کو پہچان کہ تو خاص ہے۔ اس لیے خاص بن۔ (عین الفقر)

فقیر کے مغزوپوست میں اسمِ اللہ ذات tasawar-ism-allah-zaat  کا ذکر جاری ہو جاتا ہے اور یہ ذکر اس کی ہڈیوں میں، اس کی آنکھوں میں اور اس کے چمڑے میں بھی جاری ہو جاتا ہے۔ پس قلبی ذاکر کا تمام بدن اسمِ اللہ ذات بن جاتا ہے اور اس میں اسمِ اللہ ذات جاری ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ایسے فقیر کا وجود قدرتِ الٰہی کا نمونہ بن جاتا ہے۔ (محبت الاسرار)

عارف باللہ تصورِ اسمِ  اللہ ذات کے ذریعہ ایک ہی دم میں ہزاروں بلکہ لاکھوں مقامات طے کر جاتا ہے۔ (قربِ دیدار)

تصورِ اسمِ اللہ ذات کی مشق کرنے والا معشوق بے مشقت اور محبوب بے محنت ہوتا ہے۔ اسے عمدہ مراتب نصیب ہوتے ہیں اور وہ روشن ضمیر ہو جاتا ہے وہ تمام دِلوں کا پیارا ہو جاتا ہے۔ اسمِ اللہ ذات tasawar-ism-allah-zaat  کے تصور اور تصرف سے طالبِ اللہ مخلوقِ خدا کے لیے فیض بخش ہوتا ہے۔ (کلیدالتوحید کلاں)

تصورِ اسمِ اللہ ذات کے بغیر دل سے سیاہی و کدورت و زنگار اور خطراتِ شرک و کُفر کی نجاست دُور نہیں ہوتی۔ (شمس العارفین)

تصورِ اسمِ اللہ ذات tasawar-ism-allah-zaat  صاحبِ تصور کے لیے زندگی بھر شیطان اور اس کے چیلوں کے شر سے محفوظ پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ (شمس العارفین)

اعمالِ ظاہر سے دل ہرگز پاک نہیں ہوتا اور نہ ہی دل سے نفاق جاتا ہے جب تک کہ دل کو مشق تصورِ اسمِ  اللہ ذات کی آگ سے نہ جلایا جائے اور نہ ہی اس کے بغیر دل کا زنگار اُترتا ہے۔ ذکر ”اللہ” کے بغیر دل ہرگز زندہ نہیں ہوتا اور نفس ہرگز نہیں مرتا۔ (شمس العارفین)

جو شخص چاہے کہ زرّیں و اطلس کا لباس پہنے اور عمدہ خوراک کھانے کے باوجود اُس کا نفس مطیع و فرمانبردار رہے، حادثاتِ دنیا سے مامون رہے، معصیّتِ شیطانی سے محفوظ رہے اور اُس کے وجود سے خناس، خرطوم و وسوسہ و ہمات و خطرات خاک وخاکستر ہو کر نیست و نابود ہو جائیں تو اُسے چاہیے کہ مشقِ تصور سے اپنے دل پر اسمِ  اللہ ذات نقش کرے، اس طرح اُس کا دل غنی ہو جائے گا اور بے شک وہ مجلسِ محمدی( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) میں حضوری پائے گا۔ (کلیدالتوحید کلاں)